سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے کہا : بائیکاٹ کا مقصد قطر کو پیغام پہنچانا تھا کہ اب صبر کا پیمانہ چھلک چکا ہے

Jul 01, 2017 07:46 PM IST | Updated on: Jul 01, 2017 07:46 PM IST

ریاض : سعودی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز ایک مرتبہ پھر دہشت گردی اور شدت پسندی کے لیے قطر کی سپورٹ کو مسترد کرنے کے حوالے سے اپنے موقف کو دُہرایا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ قطر کے بائیکاٹ کا مقصد دوحہ کو یہ پیغام پہنچانا تھا کہ صبر کا پیمانہ چھلک چکا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وزارت خارجہ نے اپنے سرکاری اکاؤنٹ کے ذریعے ایک ٹویٹ میں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کے اس بیان کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے 27 جون کو واشنگٹن سے جاری کیا تھا۔ الجبیر کا کہنا تھا کہ قطر کو پیش کیے جانے والے مطالبات پر کوئی بات چیت یا مذاکرات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے باور کرایا کہ سعودی عرب دوحہ کی جانب سے دہشت گردی اور شدت پسندی کی سپورٹ اور مملکت اور خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے کے موقف کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے کہا : بائیکاٹ کا مقصد قطر کو پیغام پہنچانا تھا کہ اب صبر کا پیمانہ چھلک چکا ہے

عادل الجبیر نے تین روز قبل واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے سے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ دنیا میں کوئی بھی ریاست شدت پسند تنظیموں اور جماعتوں کی فنڈنگ کو اصولی طور پر قبول نہیں کر سکتی۔ القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروپوں کو تاوان کے طور پر خطیر رقوم کی ادائیگی ناقابلِ قبول ہے۔ اسی طرح قطر کا عراق میں شیعہ ملیشیاؤں کو 30 کروڑ ڈالر ادا کرنا بھی کسی طور قبول نہیں کیا جا سکتا۔ غالبا اس رقم کا بڑا حصہ ایرانی قُدس فورس کے ہاتھوں میں پہنچے گا۔ میرا سمجھتا ہوں کہ دنیا کے زیادہ تر ممالک اس سلسلے کو روکے جانے کے حوالے سے ہمارے موقف کی تائید کریں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز