سعودی عرب کا زیر حراست شہزادوں کو اثاثوں سے دستبردار ہونے کی شرط پر رہا کرنے پر غور

سعودی عرب کے حکام کرپشن کے الزامات میں حراست میں لیے جانے والے شہزادوں اور سابق وزراء سے اثاثوں کے بڑے حصہ سے سرکار کیلئے دستبردار ہونے کی شرط پر ان کو رہا کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

Nov 17, 2017 09:27 PM IST | Updated on: Nov 17, 2017 09:27 PM IST

ریاض : سعودی عرب کے حکام کرپشن کے الزامات میں حراست میں لیے جانے والے شہزادوں اور سابق وزراء سے اثاثوں کے بڑے حصہ سے سرکار کیلئے دستبردار ہونے کی شرط پر ان کو رہا کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ بی بی سی نے برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سعودی ذرائع کے مطابق حکام حراست میں لیے گئے افراد کے اثاثوں جن میں ان کی جائیداد، بینک کھاتوں اور حصص کا جائزہ لے رہی ہے اور ان کے بینک کھاتوں میں جمع کی گئی رقوم کو اثاثوں سے الگ کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایک اور اعلیٰ سرکاری اہلکار نے چار ارب سعودی ریال کی مالیت کے اپنے حصص سے دستبردار ہونے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ رائٹرز نے ایک اور نامعلوم سرکاری اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ سعودی حکومت نے اس ہفتے کے اوائل میں بینک کھاتے منجمد کرنے کے احکامات سے آگے بڑھتے ہوئے قرضوں سے پاک اثاثوں اور جائیداد کی ضبطگی کا حکم بھی جاری کیا تھا۔

سعودی عرب کا زیر حراست شہزادوں کو اثاثوں سے دستبردار ہونے کی شرط پر رہا کرنے پر غور

خیال رہے کہ درجنوں شہزاے، اعلیٰ حکام اور بڑی کارروباری شخصیات بشمول کابینہ کے کئی اراکین اور ارب پتی لوگ اس وقت کرپشن کو ختم کرنے کے نام پر شروع کی گئی مہم کے تحت حراست میں ہیں۔بین الاقوامی تجزیہ کاروں کو ماہرین کے خیال میں اس مہم کا اصل مقصد شہزادہ محمد بن سلمان کی تخت تک پہنچنے کی راہ کو ہموار کیا جانا بھی ہے۔زیر حراست ارب پتی شہزادوں میں پرنس ولید بن طلال بھی ہیں جن کے مغربی ممالک اور امریکہ کی بڑی بڑی کمپنیوں میں حصص ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز