سعودی عرب : اسکولوں میں طالبات کے لیے جسمانی تعلیم متعارف کرانے کا اعلان

Jul 12, 2017 10:11 PM IST | Updated on: Jul 12, 2017 10:12 PM IST

ریاض : سعودی عرب کی وزارت تعلیم نے سرکاری اسکولوں میں آیندہ تعلیمی سال سے جسمانی تعلیم کا مضمون متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔خیال رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کے لیے جسمانی تعلیم متنازع رہی ہے اور قدامت پرست حلقے اس کو بچیوں کے لیے مناسب اور شائستہ نہیں سمجھتے۔یہ لازمی مضمون نہیں ہے اور بیشتر سرکاری اسکولوں میں اس کی تعلیم نہیں دی جاتی ہے۔البتہ بعض پرائیویٹ اسکولوں نے اس کواپنے نصاب میں شامل کررکھا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی شوریٰ کونسل نے 2014 میں لڑکیوں کے لیے جسمانی تعلیم کا مضمون متعارف کرانے کی منظوری دی تھی ، لیکن قدامت پرست علماء کی مخالفت کی وجہ سے اس فیصلہ پر اب تک عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی تھی اور انھوں نے اس طرح کے اقدامات کو سعودی معاشرے کو ’’ مغربیانے‘‘ کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔

سعودی عرب : اسکولوں میں طالبات کے لیے جسمانی تعلیم متعارف کرانے کا اعلان

واضح رہے کہ سعودی عرب میں اسلامی شریعت اور قبائلی روایات کی سختی سے پیروی کی جاتی ہے اور خواتین اپنے مرد ولیوں اور سرپرستوں کے بغیر گھر سے باہر نہیں جاسکتی ہیں۔تاہم سعودی حکومت نے حالیہ برسوں کے دوران میں خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے بتدریج اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ان کے تحت خواتین کے لیے ترقی اور ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور انھیں افرادی قوت میں بھی شامل کیا جارہا ہے۔

شوریٰ کونسل نے اسی سال کے اوائل میں خواتین کے لیے جمنازیم کھولنے کی بھی منظوری دی تھی۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں موٹاپے کا شکار افراد کی شرح سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے اس کے صحت کے نظام پر ایسے افراد کے علاج معالجے کے ضمن دباؤ پڑتا ہے۔ سعودی عرب کے ویژن 2030 کے تحت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف کھیل اور تفریحی سرگرمیاں متعارف کرائی جارہی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز