سعودی حکومت کا 2018 سے ملک بھر میں سینما گھر کھولنے کا اعلان ، مارچ میں کھلے گا پہلا سنیما ہال

سعودی عرب نے آج کہا ہے کہ 35 برسوں میں پہلی مرتبہ قدامت پسند سلطنت میں سنیما ہال کھولنے کی اجازت دی جائے گی اور ملک میں پہلا سنیما ہال آئندہ سال مارچ میں متوقع ہے۔

Dec 11, 2017 08:37 PM IST | Updated on: Dec 11, 2017 09:38 PM IST

دوبئی: سعودی عرب نے آج کہا ہے کہ 35 برسوں میں پہلی مرتبہ قدامت پسند سلطنت میں سنیما ہال کھولنے کی اجازت دی جائے گی اور ملک میں پہلا سنیما ہال آئندہ سال مارچ میں متوقع ہے۔ سعودی عرب میں 1980 کی دہائی کے اوائل میں سنیما ہال بند کردیئے گئے تھے۔ ایسا اسلام پسندوں کے دباؤ میں کیا گیا تھا کیونکہ سعودی معاشرہ مذہب کےقیدوبند والے معاشرے میں تبدیل ہوگیا تھا جس میں عوامی تفریحات اور مردوں اور عورتوں کے اختلاط کی حوصلہ شکنی کی گئی۔

ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں اصلاحات کے جو قدم اٹھائے گئے ہیں ان کے تحت حکومت کئی پابندیوں کو ختم کررہی ہے۔ جن میں اگلے سال سے ہی خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی کا خاتمہ شامل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سعودی معیشت تیل کی قیمتوں میں کمی سے بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ اسے فلمی صنعت کے فروغ سے فائدہ پہنچے گا۔ ثقافت واطلاعات کے وزیر عواد بن صالح العواد کے مطابق سنیما ہالوں کے کھلنے سے اقتصادی ترقی اور معیشت کو متنوع بنانے میں بالواسطہ مدد ملے گی۔

سعودی حکومت کا  2018 سے ملک بھر میں سینما گھر کھولنے کا اعلان ، مارچ میں کھلے گا پہلا سنیما ہال

انہوں نے کہا کہ زندگی کے ثقافتی شعبے میں وسعت لانے سے روزگار اور تربیت کے نئے مواقع سامنے آئیں گے۔ اسی کے ساتھ سلطنت میں تفریح کے امکانات کو تقویت ملے گی۔ سعودی عر ب میں 2030 تک دوہزار اسکرین کے ساتھ 300 سے زیادہ سینما ہال کھل سکتے ہیں۔ یہ اطلاع ایک سرکاری بیان میں دی گئی ہے۔ جس میں یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ فلمی صنعت سے معیشت کو 24 ارب ڈالر سے زیادہ کی آمدنی ہوگی اور مستقل بنیادوں پر 2030 تک روزگار کے تیس ہزار مواقع پیدا ہوں گے۔ علاقائی سینما والے سعودی عرب میں قدم رکھنے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ العواد کی صدارت میں ایک کمیشن لائسنس اور ریگولیشن کا آئندہ چند ہفتوں میں جائزہ لے گا۔ یہ اطلاع سرکاری طور پر دی گئی ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز