یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے کے ممکنہ امریکی فیصلہ کی دنیا بھر میں تنقید ، پڑھیں کس نے کیا کہا ؟ 

Dec 06, 2017 07:08 PM IST | Updated on: Dec 06, 2017 08:12 PM IST

واشنگٹن : اعلیٰ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ بدھ کے روز یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر سکتے ہیں۔ وہ وزارت خارجہ کو حکم دیا جاسکتا ہے کہ وہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیں۔اس خبر کے بعد دنیا بھر کے ممالک نے امریکہ اور امریکی صدر ٹرمپ کی چوطرفہ تنقید کی ہے۔ عرب ممالک کے علاوہ کچھ مغربی ممالک بھی امریکہ کے اس قدم کو خطرناک قرار دے رہے ہیں اور اس کی شدید تنقید کررہے ہیں۔

برطانیہ نے ٹرمپ کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم غلط ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یروشلم اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حتمی سمجھوتے کا واضح حصہ ہونا چاہئے۔ برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے آج کہا ہے کہ اس خبر سے انہیں تشویش لاحق ہوگئی ہے کہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے جارہے ہیں۔ انہوں نے برسلز میں نامہ نگاروں سے کہا دیکھا جائے صدر ڈونالڈ کیا کہتے ہیں، لیکن خبر تشویشناک ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یروشلم اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حتمی سمجھوتے کا واضح حصہ ہونا چاہئے۔

یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے کے ممکنہ امریکی فیصلہ کی دنیا بھر میں تنقید ، پڑھیں کس نے کیا کہا ؟ 

ٹرمپ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ، رائٹرز

فیصلہ کے نتائج دنیا کی امن و سلامتی اور استحکام کیلئے سنگین ہوں گے : محمود عباس

فلسطین کے صدر محمود عباس نے اس حوالے سے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے فیصلے کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔اردن کے شاہ عبد اللہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کو کمزور کرے گا اور مسلمانوں کو اشتعال دلائے گا۔

بیت المقدس کی حیثیت پر کوئی بھی فیصلہ دونوں ممالک میں مذاکرات کی بنیاد پر ہو : فرانس

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ علاقے کی صورتِ حال کو پیچیدہ نہ کریں۔فرانسیسی صدر امانوئل میکخواں نے ڈونالڈ ٹرمپ سے کہا کہ انھیں تشویش ہے کہ بیت المقدس کی حیثیت پر کوئی بھی فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے بنیادی ڈھانچے میں ہونا چاہیے۔

ایسا کوئی بھی قدم قیام امن کیلئے خطرناک ہوگا : سعودی عرب

عرب اتحاد کے سربراہ احمد ابو الغیث نے متنبہ کیا 'یہ ایک خطرناک قدم ہے جس کے بالواسطہ اثرات مرتب ہوں گے۔'جبکہ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ 'اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع میں تاخیری تصفیہ سے پہلے ایسا قدم امن کے قیام کے عمل کو بری طرح متاثر کرے گا۔'

بیت المقدس کے معاملہ پر ٹرمپ سرخ لکیر عبور نہ کریں: طیب اردگان

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنائے جانے کی اطلاعات پر اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ اس معاملے پرسرخ لکیر عبور کرنے کی کوشش نہ کریں۔ترک میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کے دوران صدر طیب اردگان نے امریکی صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کا اقدام مسلمانوں کے لیے سرخ لکیر کی مانند ہے ٹرمپ اس لائن کو عبور کرنے کی کوشش نہ کریں، یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانیت کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا، کیا امریکا نے تمام کام کرلیے ہیں جو اس کے کرنے کے لیے صرف یہی ایک کام رہ گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز