بدعنوانی کیخلاف کارروائی حصول تخت کی کوشش نہیں ، 95 فیصد ملزمان رقوم کی واپسی پر آمادہ : محمد بن سلمان

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ کرپشن کے خلاف سعودی عرب میں ہونے والی حالیہ کارروائی کو تخت حاصل کرنے کی کوشش قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔

Nov 24, 2017 06:53 PM IST | Updated on: Nov 24, 2017 08:23 PM IST

ریاض: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ کرپشن کے خلاف سعودی عرب میں ہونے والی حالیہ کارروائی کو تخت حاصل کرنے کی کوشش قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں ولی عہد کا کہنا تھا کہ 80 کے عشرہ سے سعودی عرب کو کرپشن نے جکڑا ہوا ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق سعودی حکومت کے اخراجات کا 10 فیصد حصہ کرپشن کی نذر ہوجاتا ہے اور اس میں اوپر سے لے کر نیچے تک تمام افراد ملوث ہیں۔

ولی عہد محمد بن سلمان نے کرپشن کے خلاف حالیہ کارروائیوں کو تخت حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دئے جانے کو مضحکہ خیز بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہرسال کرپشن ختم کرنے کے لیے نچلی سطح پر کارروائی کی جاتی تھی جو ہمیشہ ناکام ہوتی تھی۔تاہم جب میرے والد نے تخت سنبھالا تب ہی میں نے کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ٹھان لی تھی۔ 2015 میں ہم نے کرپشن کو اعلیٰ سطح سے ختم کرنے کے لیے کمیٹی بنائی ، جس نے 2 سال تک تفتیش کرکے 200 ناموں کو شارٹ لسٹ کیا۔ڈیٹا تیار ہو جانے کے بعد مملکت کے اٹارنی جنرل سعود المعجب نے ضروری اقدامات کیے۔

بدعنوانی کیخلاف کارروائی حصول تخت کی کوشش نہیں ، 95 فیصد ملزمان رقوم کی واپسی پر آمادہ : محمد بن سلمان

شہزادہ محمد بن سلمان: فائل فوٹو۔

ولی عہد کا کہناتھا کہ گرفتار شہزادوں کو تفتیش کے دوران جیسے ہی کرپشن کیسز کی فائلیں دکھائی گئیں ، تو 95 فیصد رقم واپس کرنے پر راضی ہوگئے، ایک فیصد نے کہا کہ وہ ثابت کرسکتے ہیں کہ وہ کرپشن میں ملوث نہیں جب کہ 4 فیصد عدالت میں جانا چاہتے ہیں۔

خود کا دفاع کرتے ہوئے سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی طریقہ کار نہیں ہے،جس کے ذریعہ تمام طبقات میں بدعنوانی پر قابو پایا جا سکے۔تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ آپ ایک اشارہ بھیجیں جس کو تمام لوگ سنجیدگی سے لیں۔ یہ اشارہ ہے کہ آپ اپنی کارستانی کے انجام سے بچ نہیں سکیں گے ۔ ہم نے واقعتا اس اقدام کے مؤثر ہونے کا مشاہدہ کیا ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز