محمد بن سلمان کا دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ، کہا اس کا مکمل خاتمہ کر کے ہی دم لیں گے

Nov 27, 2017 10:20 AM IST | Updated on: Nov 27, 2017 10:20 AM IST

ریاض۔ سعودی عرب کے طاقتور  پرنس محمد بن سلمان نے دنیا سے دہشت گردی کے صفائے تک دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ پرنس نے یہاں اسلامی دہشت گردی کے خلاف اتحاد میں شامل 40 مسلم ممالک کے حکام کے اجلاس کے دوران یہ بات کہی۔ سعودی عرب کے وزیر دفاع کی بھی ذمہ داری سنبھال رہے سلمان نے کہا-’’گزشتہ کچھ برسوں میں دہشت گردی ہم تمام ممالک کے اندر پیر پھیلا چکی ہے۔ اس کی وجہ آپس میں کوآرڈینیشن کا نہ ہونا ہے‘‘۔

سعودی ولی عہد ، وزیر دفاع اور نائب وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو اسلام کا پرامن تشخص مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔آج ہم ایک مضبوط پیغام دے رہے ہیں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مل جل کر کام کریں گے۔

محمد بن سلمان کا دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ، کہا اس کا مکمل خاتمہ کر کے ہی دم لیں گے

اسلامی فوجی اتحاد کے قیام کے دو سال کے بعد رکن ممالک کے وزرائے دفاع کا یہ پہلا اجلاس ہے۔ تصویر، العربیہ ڈاٹ نیٹ۔

انھوں نے یہ باتیں اتوار کو دارالحکومت الریاض میں اکتالیس اسلامی ممالک پر مشتمل دہشت گردی مخالف فوجی اتحاد کی دفاعی کونسل کے پہلے اجلاس کے افتتاح کے موقع پر کہی ہیں۔انھوں نے اتحاد میں شامل ممالک کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

شہزادہ محمد نے اپنی تقریر میں کہا:’’ آج ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم دہشت گردی کا اس کے مکمل استیصال تک پیچھا جاری رکھیں گے۔ اس کے خاتمہ کے بعد ہی دم لیں گے‘‘۔  اس اجلاس کا عنوان’’ دہشت گردی کے خلاف اتحاد‘‘ ہے۔اسلامی فوجی اتحاد کے قیام کے دو سال کے بعد رکن ممالک کے وزرائے دفاع کا یہ پہلا اجلاس ہے۔ اس میں رکن ممالک کے سعودی عرب میں تعینات سفارت کار اور ماہرین بھی شریک ہیں ۔ پریس کے ایک نمائندے کے مطابق اسلامی فوجی اتحاد کے کمانڈر جنرل راحیل شریف نے عسکری امور ، فوجی اطلاعات کے تبادلے اور رکن ممالک کی فوجی صلاحیت میں اضافے پر زور دیا ہے تاکہ دہشت گردی کے خاتمے اور تشدد کی روک تھام کے لیے عسکری صلاحیتوں میں اضافہ کیا جاسکے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’’ اکیسویں صدی میں اور بالخصوص مسلم دنیا میں سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی کے خطرناک مسئلے سے نمٹنا ہے۔اتحاد نے باہمی تعاون اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادے کے لیے چار نکاتی حکمت عملی و ضع کی ہے اور وہ نظریہ ، ابلاغیات ، دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام اور فوج ہے۔ ان ذرائع سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی تمام شکلوں سے نمٹا جائے گا۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سلامتی اور امن کے لیے کوششوں میں موثر انداز میں شمولیت اختیار کی جائے گی۔ اسلامی فوجی اتحاد کے قائم مقام سیکریٹری جنرل ، لیفٹیننٹ جنرل عبداللہ الصالح نے قبل ازیں کہا تھا کہ ’’اس اجلاس کے بعد دہشت گردی مخالف اتحاد کے ریاض میں واقع مرکز میں سرگرمیوں کا بھی باضابطہ طور پر آغاز ہوجائے گا‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مرکز کے ذریعے اتحاد کے رکن ممالک کو ایک پلیٹ فارم دستیاب ہوگا جہاں وہ دہشت گردی مخالف کاوشوں اور تجربات کا ایک دوسرے سے تبادلہ کرسکیں گے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مقامی اور علاقائی ثقافتی تقاضوں کے مطابق حل بھی دستیاب ہوسکیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز