انتہائی دلچسپ ہے میکخواں کے عشق کی داستان

May 09, 2017 06:30 PM IST | Updated on: May 09, 2017 06:30 PM IST

پیرس۔ فرانس کی خاتون اول بننے جا رہیں بریژٹ ٹروغنو ان اور انکے شوہر نو منتخب صدر امینیول میکخواں کی داستان عشق کافی دلچسپ ہے ۔مسٹر میکخواں نے محض پندرہ سال کی عمر میں خود سے 24سال بڑی ڈرامہ ٹیچر بریژٹ کو شادی کی پیش کش کی تھی لیکن اسے حقیقت بننے میں پندرہ سال لگ گئے ۔ فرانس کے نومنتخب صدر امینیول میکخواں جہاں سیاست کے میدان میں کامیابی کی وجہ سے مشہور ہوئے ہیں وہیں ان کی محبت کی کہانی کے چرچے بھی عام ہیں۔ امینیول میکخواں کی 64 سالہ بیوی بریژٹ ٹروغنو ان سے 24 برس بڑی ہیں اور وہ اس سکول میں استاد تھیں جہاں میکخواں نے تعلیم حاصل کی تھی۔ ان دونوں کی محبت کی کہانی اس وقت شروع ہوئی جب 15 سالہ امینیول میکخواں شمالی فرانس کے ایک سکول میں زیر تعلیم تھے۔ اس عمر میں ہی امینیول میکخواں کو اپنے ہم عصروں میں باصلاحیت مانا جانے لگا تھا۔ جس عمر میں بچے ٹی وی کے دیوانے تھے، تب امینیول میکخواں ہمیشہ کتابوں میں گم رہتے تھے۔

اسی ا سکول میں امینیول میکخواں کے ساتھ بریژٹ ٹروغنو کی بیٹی لارنس بھی پڑھتی تھیں۔ ایک دن لارنس نے اپنے گھر میں بتایا کہ ان کی کلاس میں پڑھنے والے امینیول کو سب کچھ آتا ہے۔ اس وقت بریژٹ ٹروغنو 40 برس کی تھیں اور 20 سال کی عمر میں ہی ان کی شادی ایک مقامی بینکر سے ہو چکی تھی جن کے ساتھ ان کے لارنس سمیت تین بچے تھے۔ اپنی بیٹی کی باتوں سے متاثر ہوکر بریژٹ کو امینیول سے ملنے کا شوق ہوا۔ میکخواں ا سکول میں ڈرامہ گروپ کا حصہ تھے۔ ایک بار جب ملان کنڈیرا کی کتاب پر مبنی ڈرامے میں مرکزی کردار ادا کرنے کے لیے میکخواں اسٹیج سے اترے تو ان کی نظر بریژٹ پر گئی۔ بریژٹ نے ایک فرانسیسی دستاویزی فلم میں بتایا 'وہ دوسروں جیسے نہیں تھے۔ وہ کم عمر نوجوانوں کی طرح بھی نہیں تھے۔ اپنے سے بڑی عمر کے لوگو کے ساتھ ان کا برابری کا رشتہ تھا۔' ایک دن میکخواں ڈرامہ لکھنے کے لیے بریژٹ کے پاس پہنچ کر بولے 'کیوں نہ ہم اسے مل کر لکھیں؟ بریژٹ کی رضامندی کے بعد دونوں ہر جمعہ کو ملنے لگے۔

انتہائی دلچسپ ہے میکخواں کے عشق کی داستان

بریژٹ نے اس دن کو یاد کرتے ہوئے کہا 'میں نے سوچا تھا کہ یہ زیادہ عرصہ نہیں چلے گا۔ مجھے لگا کہ وہ بور ہو جائیں گے۔ لیکن ہم نے ساتھ لکھنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ میں میکخواں کی ذہانت سے مکمل طور پر متاثر ہوگئی۔' پیرس میچ کو دیے ایک انٹرویو میں بریژٹ نے بتایا ' میں اس رشتے میں آہستہ آہستہ ڈوبتی چلی گئی اور یہ بات جلد ہی میکخواں کے گھر تک پہنچ گئی۔ ان کے والدین سکتے میں آ گئے کیونکہ انہیں یہ لگتا تھا کہ میکخواں کی دوستی لارنس (بریژٹ کی بیٹی) سے ہے۔' ایسے میں میکخواں کے والدین نے انھیں پیرس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ میکخواں کی سوانح عمری تحریر کرنے والی مصنفہ این فلڈا نےاپنی کتاب کے سلسلے میں میکخواں کے والدین سے بھی بات چیت کی جس میں میکخواں کی والدہ نے فلڈا کو بتایا کہ 'ہمیں تو یقین ہی نہیں ہوا۔‘ بیٹے کی فکر میں مبتلا والدین بریژٹ سے بھی ملے اور انہیں اپنے بیٹے سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔ لیکن بریژٹ نے ان دونوں کو واضح طور پر کہہ دیا 'میں آپ سے کوئی وعدہ نہیں کر سکتی'۔ سولہ سال کی عمر میں میکخواں نے پیرس میں تعلیم کا آغاز کیا۔

بریژٹ نے ان دِنوں کے بارے میں کہا 'ہم لوگ ایک دوسرے کو فون کرتے رہتے تھے اور گھنٹوں فون پر بات کیا کرتے تھے۔' ایک بار بریژٹ نے کہا ' کوئی نہیں جانتا ہے کہ ہم دونوں کے درمیان محبت کب ہو گئی۔وہ لمحے ہمارے اپنے لمحے ہیں۔ وہ ہمارے خفیہ راز ہیں۔'

بریژٹ کے پہلے شوہر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ آندرے لیوس ایک بینکر تھے۔ ان حالات میں آندرے کے ساتھ بریژٹ کا رشتہ زیادہ دن نہیں چل سکا۔ دونوں کے درمیان سال 2006 میں طلاق ہوئی اور2007 میں میکخواں اور بریژٹ نے شادی کر لی۔ میکخواں اور بریژٹ کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ لیکن میکخواں بریژٹ کے تین بچوں کے والد اور ان کے سات بچوں کے سوتیلے دادا ضرور ہیں۔ بریژٹ کے ایک صاحبزادے تو عمر میں امینیول میکخواں سے دو سال بڑے ہیں۔ پیرس میچ کو دیے گئے انٹرویو میں بریژٹ نے امینیول کے بارے میں کہا 'وہ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہیں۔ جن میں غیر معمولی ذہانت کے ساتھ ساتھ غیر معمولی انسانیت کی خصوصیات ہیں۔ وہ ایک فلسفی ہیں جو پہلے بینکر بنے اور اور اب سیاستدان۔'

امینیول میکخواں اب فرانس کے سب سے کم عمر صدر کا عہدہ سنبھال رہے ہیں اور ان کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ ہمیشہ بریژٹ کے مشورے کو اہمیت دیتے رہے ہیں۔ جب وہ فرانس کے وزیر خزانہ تھے تب کئی اجلاس میں بریژٹ موجود رہی تھیں اور صدر بننے سے پہلے بھی انہوں نے کہا تھا کہ اگر وہ جیتتے ہیں تو بریژٹ بھی کوئی نہ کوئی اہم کردار ضرور ادا کریں گیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز