اے پی جے عبدالکلام کے مجسمہ کے پاس رکھے گئے قرآن اور بائبل کے نسخے ، ہندو تنظیموں کا ایک اعتراض

سابق صدر اے پی جے عبدالکلام کے مجسمہ کے پاس بھگوت گیتا کے بعد اب قرآن کریم اور بائبل کے نسخے بھی رکھ دئے گئے ہیں ۔

Jul 31, 2017 02:33 PM IST | Updated on: Jul 31, 2017 03:09 PM IST

رامیشورم : سابق صدر اے پی جے عبدالکلام کے مجسمہ کے پاس بھگوت گیتا کے بعد اب قرآن کریم اور بائبل کے نسخے بھی رکھ دئے گئے ہیں ۔ تاہم مقامی ہندو تنظیمیں اس کے خلاف میدان میں آگئی ہیں۔ ایک ہندو تنظیم کے لیڈر نے مجسمہ کے پاس قرآن اور بائبل رکھنے پر اس بنیاد پر اعتراض کیا کہ اس کیلئے کوئی اجازت نہیں لی گئی۔ افتتاح کے کچھ گھنٹے بعد میموریل کے لئے تعینات حکام نے مجسمہ کے قریب ایک گلاس کین میں بائبل اور قرآن کریم کے نسخے بھی رکھ دئے ۔ میموریل کا افتتاح وزیر اعظم مودی نے 27 جولائی کو کیا تھا۔

ہندو مكال كاچي کےلیڈر کے پربھاکرن نے اس سلسلہ میں پولیس میں یہ شکایت بھی درج کرائی ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ دونوں کتابیں (قرآن اور بائبل) حکام سے اجازت لئے بغیر رکھی گئی ہیں۔ پربھاکرن نے نامہ نگاروں سے کہا کہ میں ان کتابوں کا احترام کرتا ہوں، تاہم ان کو اجازت کے بغیر کھا جانا غلط ہے۔

اے پی جے عبدالکلام کے مجسمہ کے پاس رکھے گئے قرآن اور بائبل کے نسخے ، ہندو تنظیموں کا ایک اعتراض

خیال رہے کہ قبل ازیں وائیکو کی زیر قیادت ایم ڈی ایم کے اور پی ایم کے نے 15 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر میموریل میں ستار بجاتے ہوئے اے پی جے عبد الکلام کی لکڑی کے ایک مجسمے کے نزدیک بھگوت گیتا رکھے جانے پر سوال اٹھایا تھا۔ میموریل کا ڈیزائن اور اس کی تعمیر تعمیر ڈی آر ڈی او نے کی ہے جس سے ڈاکٹر کلام طویل عرصہ تک وابستہ رہے۔

ڈاکٹر کلام کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کلام تمام ہندوستانیوں کے لیڈر تھے اور کسی کو بھی اس معاملہ میں سیاست کرنے نہیں کرنی چاہئے۔ ایم ڈی ایم کے ایک ترجمان نے کہا کہ پارٹی کے بانی وائیکو وہاں بھگوت گیتا لگانے کی ضرورت پر سوال اٹھا چکے ہیں جبکہ ڈاکٹر کلام بین الاقوامی اسٹیج پر بھی صرف تھرككل کا تذکرہ کرتے تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز