کرناٹک: کمار سوامی حکومت پر خطرات کا سایہ، ناراض کانگریس ممبران اسمبلی نے دکھائے بغاوتی تیور

Jun 08, 2018 08:30 PM IST | Updated on: Jun 08, 2018 08:30 PM IST

بنگلورو: کرناٹک میں جے ڈی ایس کے ساتھ مل کر حکومت بنانے والی کانگریس پارٹی پر ٹوٹنے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ کابینہ میں جگہ نہیں پانے والے تقریباً ایک درجن سینئر لیڈروں نے بغاوت کا جھنڈا بلند کرکے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ہوائی دھمکیاں نہیں ہیں۔

کانگریس پارٹی نے اتحادی حکومت میں ایم بی پاٹل، دنیش گنڈو راو، رام لنگا ریڈی، آر روشن بیگ، ایچ کے پاٹل، تنویر سیت، شامانور شیوشنکرپا اور ستیش جارکھہولی سمیت گزشتہ سدارمیا کابینہ کے کئی اہم ارکان کو نئی اتحادی حکومت میں جگہ نہیں دی گئی ہے۔ یہ لیڈران کا فی ناراض ہیں اور ان کے درمیان کافی میٹنگیں بھی ہوچکی ہیں۔

کرناٹک: کمار سوامی حکومت پر خطرات کا سایہ، ناراض کانگریس ممبران اسمبلی نے دکھائے بغاوتی تیور

Loading...

دوسری جانب کرناٹک کے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے کابینہ کی توسیع سے ناخوش چل رہے کانگریس ممبران اسمبلی کو جمعہ کو سمجھانے کی پہل کی۔ انہوں نے کانگریس کے مرکزی قیادت سے مسئلےکاحل تلاش کرنے کرنے کے لئے اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔

وزیراعلیٰ کمار سوامی نے ریاست کے سینئر کانگریسی لیڈر ایم بی پاٹل سے ملاقات کی، جن کی قیادت میں ناراض پارٹی ممبران اسمبلی میٹنگیں کررہے ہیں۔ حالانکہ کچھ لیڈر حکومت کے گرنے کی امیدوں کو خارج کررہے ہیں جبکہ کچھ پاٹی کے مفاد میں اتحاد کی قربانی دینے کی حمایت میں نظر آئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لیڈر لنگایت طبقے کو الگ سے منظوری دینے کا مطالبہ کرنے کے سربراہ تھے، انہیں وزیر نہیں بنایا گیا ہے، ان میں ایم بی پاٹل اور ایشور کھانڈرے کے نام اہم ہیں۔

سابق وزیراعلیٰ سدا رمیا کا کہنا ہے کہ پارٹی متحد ہے اور یہ کہنا غلط ہے کہ ان کے حامیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے نیوز 18 کو بتایا کہ سبھی میرے حامی ہیں۔ ہم جلد ہی حل نکال لیں گے۔ وہیں کرناٹک بی جے پی صدر بی ایس یدی یورپا نے کہا کہ دیوے گوڑا اور ان کے بیٹے کمار سوامی کانگریس کو برباد کررہے ہیں اور اگر اتحاد بچ گیا تو یہ پاری جلد ہی تاریخبن جائے گی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ کانگریس اعلیٰ کمان اس معاملے پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے جبکہ اس نے اتحادی حکومت بنانے کے لئے پوری طاقت لگادی تھی۔

ناراض لیڈان جلد ہی کانگریس صدر راہل گاندھی سے ملنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ بنگلور سے ایک کانگریس ممبراسمبلی نے کہا کہ بی جے پی کے پاس 104 ممبران اسمبلی ہیں اور وہ پوری نظر بنائے ہوئے ہیں۔ پارٹی کا کوئی بھی غلط قدم حکومت گراسکتی ہے اور اس سے بی جے پی کی واپسی ہوسکتی ہے۔

کانگریس، جے ڈی ایس، بی ایس پی اور ایک آزاد ممبراسمبلی مل کر کمار سوامی حکومت کے پاس 118 ممبران اسمبلی ہیں جبکہ بی جے پی کے پاس 104 ممبران اسمبلی ہیں۔ بجٹ ووٹنگ کے دن اگر 15-10 ممبران اسمبلیکے نہیں آنے پر حکومت گرجائے گی اور اس سے کانگریس فکر مند ہے۔ جے ڈی ایس میں بغاوتی تیوراپنائے گئے ہیں، لیکن وہ اتنے مضبوط نہیں ہیں۔

دوسری جانب ناراض کانگریسی ممبران اسمبلی سے ملاقات کے بعد کمار سوامی نے کہا کہ ویسے تو یہ معاملہ سیدھے ان سے نہیں جرا نہیں ہے، لیکن وہ حکومت کے استحکام کے لئے کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کے لیڈر کے طور پر ممبران اسمبلی کو سمجھانے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا تعلق مجھ سے نہیں ہے۔ کیونکہ یہ  کانگریس پارٹی کے اندر کئے گئے فیصلے ہیں، میں ان کا (پاٹل کا) درد سمجھا ہے کہ ضرورت کے وقت انہوں نے کانگریس پارٹی کے لئے کام کیا، لیکن اب وہ مایوس محسوس کررہے ہیں۔

کمار سوامی نے کہا کہ پاٹل نے ان سے کہا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں اور وہ اپنے خیالات والے ممبران اسمبلی کے ساتھ مشورہ کرکے فیصلہ لیں گے۔ میں نے ان کے جذبات کو محسوس کیا، میں دہلی کے (کانگریسی لیڈروں) سے مسئلے کا حل نکالنے کے لئے فوری کارروائی کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔

 

 

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز