علمائے کرام سے سیاسی اور سماجی میدان میں بھی عوام کی قیادت کرنے کی اپیل

Apr 01, 2017 07:54 PM IST | Updated on: Apr 01, 2017 07:54 PM IST

بنگلورو ۔ ساکشی مہاراج، اوما بھارتی جیسے اپنے کو سنیاسی  اور سادھوی کہنے والے لوگ ان دنوں مرکزی حکومت میں کہیں وزیر تو کہیں ممبر پارلیامنٹ کی شکل میں عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں، وہیں اب یو پی میں ایک مٹھ کے آچاریہ یوگی آدتیہ ناتھ  یوپی کے وزیر اعلی ہیں۔ وہیں اقلیتی قیادت اور خصوصی طور سے مسلمانوں کی قیادت کی بات کی جائے تو وہ پورے ملک کی تمام اسمبلیوں سے لیکر پارلیامنٹ تک کافی کم ہے۔ علما نےان حالات کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھرسے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کے درمیان سے بھی عوام کی نمائندی سیاسی طور پراب ہونی چایئے ۔

علمائے کرام صرف مسجدوں تک محدود نہ رہیں بلکہ سیاسی اور سماجی میدان میں بھی عوام کی قیادت کریں ۔ بنگلورو میں امامس کونسل کے اجلاس میں یہ بات کہی گئی۔ اس اجلاس میں امامس کونسل کی ریاستی کمیٹی کی ازسرنوتشکیل کی گئی۔  نئی کمیٹی کی دوسالہ معیاد کے لیے امامس کونسل نے 15 نئےعہدیداروں کا انتخاب کیا ہے۔ گلبرگہ کے مولانا یوسف رشادی کوریاستی صدر جبکہ منگلورو کے مولانا جعفرصادق فیضی کو ریاستی جنرل سکریٹری منتخب کیا گیا ہے۔ امامس کونسل نے کہا کہ موجودہ دور میں سیاسی میدان میں مٹھوں کے سوامی جی عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں تو علمائے کرام کو بھی چاہئے کہ وہ ہرمیدان میں امامت کا فریضہ انجام دیں۔

علمائے کرام سے سیاسی اور سماجی میدان میں بھی عوام کی قیادت کرنے کی اپیل

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز