چرکّل کی ہندورانی کے مسلمان بننے کے بعد قائم ہوئی سلطنت

Jun 01, 2017 12:50 PM IST | Updated on: Jun 01, 2017 12:50 PM IST

بنگلورو۔ ارکّل سلطنت کوکیرلا کی واحد مسلم سلطنت ہونے کا اعزازحاصل ہے۔ کیرلا کے ساحلی شہر کنّورمیں ارکل سلطنت کی جائدادیں، یادگاریں آٓج بھی موجود ہیں اور ارکّل خاندان کوآج بھی شاہی خاندان کا درجہ حاصل ہے۔کیرلاکا ساحلی شہرکنّورارکّل سلطنت کا صدر مقام رہا ہے۔ ایک طویل عرصہ تک اس شہر پرارکّل کے سلطانوں نے حکومت کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چرکّل ہندو سلطنت کی رانی کی مسلم فوجی سے شادی کے بعد ارکل سلطنت کا قیام عمل میں آیا۔ کنورشہر کے پرانے علاقے میں ارکل میوزیم موجود ہے۔ میوزیم میں اُس دورکےاسلحہ، برتن، فرنیچر، شاہی لباس اوردیگر چیزیں موجود ہیں ۔ قرآن مجید کے نسخوں کے ساتھ عربی میں تحریرکدہ خطوط بھی میوزیم میں رکھے گئے ہیں ۔

ارکل سلطنت کے میسور کی خداداد سلطنت کے بانی حیدرعلی اورٹیپوسلطان سے گہرے مراسم تھے ۔ مغلیہ سلطنت سے بھی اس سلطنت اور  وہیں ترکی کی دولت عثمانیہ سے بھی روابط تھے  ۔1777اور1780 میں ارکل کے سلطانوں نےانگریزوں اورپرتگالوں کے خلاف لڑائی میں مدد کے لیے ترکی کی دولت عثمانیہ کوخطوط لکھےتھے۔ کیرلا کے ملبارخطہ  کی تعمیر اورترقی میں ارکل کے سلطانوں اور بیویوں نےاہم رول ادا کیا ہے ۔ ارکل سلطنت میں بادشاہ کوعلی راجا جبکہ ملکہ کوارکّل بیوی کہا جاتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہےکہ ملبارہندوؤں کے طرز پراس سلطنت میں بھی خاندانی وارثت کے حقوق خواتین میں منتقل ہوتےآئےہیں۔ کنورشہر میں آج بھی یہ شاہی خاندان آباد ہے۔ ارکل کی رانی ہی رویت ہلال کارسمی اعلان کرتی ہیں۔

چرکّل کی ہندورانی کے مسلمان بننے کے بعد قائم ہوئی سلطنت

  سمندری ساحل کے قریب موجود ارکل محل کے دومنزلہ دربارہال کواب میوزیم میں تبدیل کیا گیا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ اور ریاستی حکومت کے زیرنگرانی یہ میوزیم قائم ہے۔ ارکال سلطانوں کی یادگاروں، مخطوطات کو دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں سیاح یہاں آتےہیں۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز