وندے ماترم کے نام پر دینی مدارس کو تنگ کرنا چاہتی ہے یوگی حکومت : اسد الدین اویسی

Aug 16, 2017 03:55 PM IST | Updated on: Aug 16, 2017 05:50 PM IST

حیدرآباد: حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدرکل ہند مجلس اتحادالمسلمین بیرسٹر اسدالدین اویسی نے گورکھپور واقعہ کے لئے حکومت کوذمہ دار قرار دیا۔انہوں نے پارٹی ہیڈ کوارٹرز دارالسلام میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ کے لئے کس کو جواب دہ بنایا جائے ۔

انہوں نے سوال کیاکہ بی جے پی حکومت کے شفافیت کے دعوے کہاں گئے؟ انہوں نے کہاکہ اس معاملہ میں پولیس کو ایف آئی آر درج کرنی چاہئے۔اس کے بعد اس معاملہ کی جانچ کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے سوال کیاکہ 80سے زائد بچوں کی اموات کے لئے کون ذمہ دار ہے۔

وندے ماترم کے نام پر دینی مدارس کو تنگ کرنا چاہتی ہے یوگی حکومت : اسد الدین اویسی

اسد الدین اویسی: فائل فوٹو

ڈاکٹرکفیل کو بلی کا بکر ا بنایا گیا

بی جے پی حکومت نے ڈاکٹرکفیل کو اس معاملہ میں بلی کا بکر ا بنایا ہے ۔اس ڈاکٹر کی معطلی اور وزیراعلی کے اسپتال کے دورہ کے بعد بھی بچوں کی اموات ہورہی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس واقعہ میں مرنے والے تمام بچوں کا تعلق غریب خاندانوں سے ہے او ر ان کی اموات پران کے والدین پر کیا گزری ہوگی، اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ اسپتال میں آکسیجن سلنڈرس کی فراہمی کیلئے فنڈز نہیں ہیں۔ایسالگتا ہے کہ انسانیت ختم ہوچکی ہے۔اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی اموات کیلئے اسپتال انتظامیہ کے ساتھ ساتھ حکومت بھی ذمہ دارہے ، کیونکہ حکومت کوئی قدم اٹھانا نہیں چاہتی اور ایک ڈاکٹر کوبلی کابکرابنایا گیاہے۔

دینی مدارس کو تنگ کرنا اترپردیش حکومت کاکام

وندے ماترم کے مسئلہ پر دینی مدارس کو تنگ کرنے کاکام اترپردیش کی حکومت کرنا چاہتی ہے ،حکمرانی نام کی کوئی چیز وہاں نہیں ہے۔

کہاں گئی نتیش کمار کی فعالیت ؟

صدر مجلس نے بہار میں سیلاب کی صورتحال پر کہا کہ ہرسال بہار اور آسام میں سیلاب آتا ہے تاہم اس سال یہ سیلاب کافی شدید رہا ہے کیونکہ بہار کا سیمانچل کا مکمل علاقہ سیلاب کی نذ رہوگیاہے۔یہ سیمانچل کا علاقہ مکمل ہندوستان سے کٹ گیا ہے ۔یہاں سڑک یا ریل کا کوئی رابطہ نہیں رہا ہے۔یہاں کے لوگوں کے لئے پینے کاپانی ،غذا اوردوائیاں تک میسر نہیں ہیں۔ نتیش کمار خود کو فعال قراردیتے ہیں۔ا ن کی فعالیت کہاں گئی؟انہوں نے کہاکہ اس سیلاب میں کئی لوگ بہہ گئے۔مرکزی حکومت کوچاہئے کہ وہ اس علاقہ میں راحت پہنچانے کے فوری اقدامات کرے۔ وزیراعظم کوچاہئے کہ وہ بہارکے سیلاب زدہ علاقوں کادورہ کریں اورمکمل سنجیدگی کے ساتھ راحت کے کام انجام دیئے جائیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ اوروائس چانسلر کی زیادتی کے سبب روہت کی موت

صدرمجلس نے روہت ویمولاکے دلت نہ ہونے کے دعووں کو بھی مستردکردیااور کہاکہ یونیورسٹی انتظامیہ اوروائس چانسلر کی زیادتی کے سبب روہت کی موت ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ سب سے پہلے یہ بات ہرکسی کو یاد رکھنی چاہئے کہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے مودی زیرقیادت مرکزی حکومت سے مطالبہ کیاتھاکہ وہ اس معاملہ میں انصاف کے مفادمیں روہت ویمولا کی موت کی جانچ کے لئے جوڈیشیل کمیشن آف انکوائیری کے احکام جاری کرے جس کومودی حکومت نے مسترد کردیا اور اس کے بعد جوکچھ ہوا وہ تمام کے سامنے ہے۔ اس معاملہ میں حکومت عوام کے سامنے بے نقاب ہوگئی۔حکومت نے ہائیکورٹ کے ریٹائرڈجج کے ذریعہ اس معاملہ کی جانچ کروانے کے احکام دیئے ۔انہوں نے واضح کیا کہ جیوڈیشیل کمیشن آف انکوائیری اور ہائیکورٹ کے ریٹائرڈجج کے ذریعہ جانچ میں کافی فرق ہے۔

انہوں نے کہاکہ روہت ویمولا نے یونیورسٹی آف حیدرآباد میں،یونیورسٹی حکام کی زیادتی کے خلاف 16دن تک ہڑتال کی تھی ۔اس کی خودکشی کے لئے پوری یونیورسٹی ذمہ دار ہے۔انہوں نے کہاکہ پوری دنیاجانتی ہیکہ وائس چانسلر کے ظلم اور زیادتی کے سبب اس کی موت ہوئی ہے۔اس کی موت کے لئے وائس چانسلر ذمہ دار ہے۔

روہت ویمولا کے دلت نہ ہونے کادعوی غیر مناسب

روہت ویمولا کے دلت نہ ہونے کادعوی کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ اس کی ماں دلت تھی اور اس کے باپ کاتعلق او بی سی کے وڈیرا طبقہ سے ہے ۔انہوں نے سپریم کورٹ کے کئی فیصلوں کی نظیرپیش کی اور کہاکہ عدالت عظمی کے کئی ایسے فیصلے ہیں جس میں عدالت نے واضح کیا ہے کہ بین ذات شادی میں دلت سرٹیفکیٹ دیاجاتا ہے۔روہت کے معاملہ میں بھی ایسا سرٹیفکیٹ دیا گیا کیونکہ روہت کی ماں دلت تھی اور اس کے باپ کا تعلق او بی سی وڈیرا طبقہ سے تھا۔

روہت نے اپنی پوری زندگی میں دلت اسکالرشپ حاصل کی تھی۔اس کو دلت نہ قرار دینا اس بات کو حکومت کی جانب سے یقینی بنانا ہے کہ دلت طبقہ کے ساتھ جانب داری کے خلاف دلت طلبہ کی تحریک کو روکا جائے کیونکہ یہ تحریک ملک میں ابھر رہی ہے۔اس کوختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس میں حکومت ناکام ثابت ہوگی ۔حکومت دلت سماج کے سامنے بے نقاب ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ظلم ،زیادتی اور آمریت کی وجہ سے روہت کی موت ہوئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز