بابری مسجد کیس : اسد الدین اویسی کا مطالبہ ، مودی حکومت کلیان سنگھ کو برخاست کرکے چلائےمقدمہ

Apr 19, 2017 06:53 PM IST | Updated on: Apr 19, 2017 06:55 PM IST

حیدرآباد: صدر مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے آج دیئے گئے حکم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت ہندوستان کے لئے ایک سیاہ دن ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ کلیان سنگھ کو گورنرکے عہدہ سے ہٹادے ۔وہ دستوری عہدہ کے پیچھے کیوں چھپے ہوئے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ اُن کو اس مقدمہ کا سامنا کروائے۔ صدر مجلس نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چاہے سماج وادی پارٹی ہو یا بی جے پی‘ کانگریس تمام نے ملزمین کو بچانے کی کوشش کی۔ اگر یہ جماعتیں ایک اعلامیہ جاری کردیتی تو اب تک فوجداری مقدمہ کی سماعت ختم ہوجاتی۔

اُنہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے قاتلوں کا مقدمہ دو سال میں مکمل ہوگیا اور بابری مسجد کا معاملہ جو مہاتما گاندھی کے قتل سے بڑا واقعہ ہے میں 25 سال لگ رہے ہیں۔ اُنہوں نے سوال کیا کہ کیا حکومت اس معاملہ میں ملک سے انصاف کرے گی۔ اُنہوں نے استفسار کیا کہ حکومت کیا پیغام دے رہی ہے جو لوگ مقدمہ کا سامنا کررہے ہیں اُن میں مرلی منوہر جوشی اور اڈوانی کو پدم وبھوشن دیئے گئے۔ کیا یہ انصاف ہے؟ کیا یہ قانون کی حکمرانی ہے؟

بابری مسجد کیس : اسد الدین اویسی کا مطالبہ ، مودی حکومت کلیان سنگھ کو برخاست کرکے چلائےمقدمہ

گیٹی امیجیز

اُنہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر سپریم کورٹ کو 24 تا 25 سال لگ گئے۔ اُنہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ توہین عدالت کی عرضی کی سماعت کیوں نہیں کرتیں۔ اُنہوں نے کہا کہ توہین عدالت کی عرضی کی سماعت سپریم کورٹ کرے کیونکہ یہ توہین عدالت کا معاملہ زیرالتواء ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں کلیان سنگھ کو ایک ہی دن کی سزا ہوئی اور وہ بھی بابری مسجد کی شہادت کے سلسلہ میں نہیں ہوئی۔ اُنہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے ہمیں امید ہے کہ اس عرضی کی سماعت کرے گا۔

انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ توہین عدالت کی عرضی کی سماعت کرے اور اُن لوگوں کے خلاف بھی فیصلہ کرے جو شہادت بابری مسجد میں ملوث ہیں۔ صدر مجلس نے اس معاملہ کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’’ہم خاک ہوجائیں گے تم کو خبر ہونے تک‘‘ گاندھی جی کے قاتلوں کو دو سال میں سزا ہوتی ہے اور جن پر بابری مسجد کی شہادت کا الزام ہے اُن پر یہ مقدمہ اب تک چل رہا ہے اس مقدمہ کو اب تک ختم ہوجانا چاہئے۔

اُنہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے خلاف ثبوت ہیں ان کو جیل میں جانا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا جس نے سامنے ٹہر کی بابری مسجد کو شہید کروایا وہ ملک کے وزیرداخلہ اور وزیر فروغ انسانی وسائل بن گئے۔ جو لوگ رتھ یاترا میں ساتھ تھے آج وہ حکومت کررہے ہیں‘ یہی تو اس ملک کا مسئلہ ہے جہاں پر انصاف کی بات آتی ہے وہاں برسوں گذر جاتے ہیں۔ ہماری زندگی تک انصاف ہوگا یا نہیں یہ وقت ہی بتائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر اس وقت کارسیوا کی اجازت نہیں دی جاتی تو بابری مسجد کی شہادت نہیں ہوتی۔

اُس وقت کے اٹارنی جنرل نے عدالت میں واضح کیا تھا کہ بابری مسجد کی شہادت کا امکان ہے ۔بی جے پی نے وعدہ کیاتھاکہ مسجد کو ہاتھ نہیں لگایاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ سازش کے الزام کے لئے سپریم کورٹ کو 25سال لگ گئے۔بابری مسجد کی شہادت شرم کا معاملہ ہے۔ جمہوریت کیلئے یہ سیاہ دن تھا۔جب قانون کی حکمرانی کی دھجیاں اڑائی گئیں۔کلیان سنگھ میں ہمت ہے تو وہ استعفی دے ۔اگر حکومت انصاف کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ کلیان سنگھ کو برخاست کرے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز