ہمت ہے تو حکومت یونیسکو کی فہرست سے تاج محل کو نکلوا دے: اسد الدین اویسی

Oct 16, 2017 03:35 PM IST | Updated on: Oct 16, 2017 03:35 PM IST

حیدرآباد۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین اسد الدین اویسی نے اترپردیش کے وزیر سنگیت سوم کی جانب سے تاج محل پر کئے گئے تبصرہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چیلنج کیا کہ اگرتاج محل غداروں نے تعمیر کیا ہے تو حکومت ، تاج محل کا دیدار کرنے کے لئے ہندوستان آنے والوں سے یہ کہہ دے کہ اس عمارت کا دیدار نہ کیا جائے ۔اگر حکومت میں ہمت ہے تو وہ یونیسکو سے یہ کہہ دے کہ اس کی عالمی ثقافتی ورثہ کی حامل عمارتوں کی فہرست سے تاج محل کو نکال دیا جائے۔ صدر مجلس نے دارالسلام میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرواقعی یہ عمارتیں غداروں نے تعمیرکی ہیں تو پھر وزیر اعظم نریندر مودی کیوں لال قلعہ سے قومی پرچم لہراتے ہیں ۔ وہ لال قلعہ سے جھنڈا لہرانا چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا وزیراعظم مودی دہلی کے حیدرآباد ہوز میں بیرونی مندوبین کی میزبانی چھوڑ دیں گے جس کو غداروں نے تعمیرکیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ درحقیقت مودی نے 25لاکھ روپئے سے زائد کا سوٹ پہن کر اسی حیدرآباد ہاؤس میں اوبامہ کو چائے پیش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بیان بازی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت کی ترجیحات کیا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دستورپر حلف اٹھانے والے وزیرکی جانب سے اس طرح مغرور اندازمیں بیان بازی افسوس کی بات ہے۔ یہ وزیر تاریخ کو نظرانداز کرنے کی بات کرتے ہیں۔ صدرمجلس نے واضح کیا کہ درحقیقت یہ حکومت نوجوانوں کو ملازمت کے مواقع کی فراہمی ،دہشت گردی پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ چین کے محاذ پرمکمل طورپرناکام ہوگئی ہے۔ حکومت نفرت کی تاریخ رکھتی ہے اور آرایس ایس ان افراد کو ہی اپنا سرٹیفکیٹ دیتی ہے جو اس کے نظریہ کے حامی رہے ہوں۔

ہمت ہے تو حکومت یونیسکو کی فہرست سے تاج محل کو نکلوا دے: اسد الدین اویسی

صدر مجلس نے دارالسلام میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرواقعی یہ عمارتیں غداروں نے تعمیرکی ہیں تو پھر وزیر اعظم نریندر مودی کیوں لال قلعہ سے قومی پرچم لہراتے ہیں ۔

گجرات کے انتخابات کے مسئلہ پراسد اویسی نے امید ظاہر کی کہ وہاں کے رائے دہندگان پہلے کی طرح فرقہ پرستی اور اس طرح جھوٹے وعدہ کرنے والوں کی باتوں میں نہیں آئیں گے کیونکہ ماضی میں وہاں کے رائے دہندگان کو فرقہ پرستی اور جھوٹی باتوں سے بہلایا گیا تھا۔ انہیں امید ہے کہ گجرات کے عوام اس مرتبہ کافی احتیاط سے دانشمندانہ فیصلہ کریں گے۔ صدر مجلس نے 2002کے گودھرا فسادات میں نقصان پہنچائے گئے مذہبی ڈھانچوں کی مرمت اور تعمیر نو کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے سرکاری رقم کے استعمال سے متعلق ایک سوال پرکہا کہ حال ہی میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس دیپک مشرا نے فیصلہ دیا تھا کہ عوامی رقم کا استعمال مذہبی مقامات کی تعمیر اورمرمت کیلئے نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ دستور کی دفعہ 27کی خلاف ورزی ہے۔گجرات کے اُس وقت کے وزیراعلی نریندر مودی مذہبی ڈھانچوں کے تحفظ میں ناکام ہوگئے تھے۔

انہوں نے حکومت کی ترجیحات پر بھی کئی سوال اٹھائے اور کہا کہ ایک طرف اترپردیش کے اسپتال میں چھوٹے بچوں کی آکسیجن کی کمی سے موت ہورہی ہے اور بنیادی سہولتوں کی کمی ہے اور اس طرح کی بیان بازی نامناسب ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ یوپی کی حکومت  ناکام ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی اور نوٹ بندی سے معیشت برباد ہوگئی ہے۔ عام آدمی اور غریب افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے جو مسائل پیداہوئے ہیں ۔ ان پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز