حیدرآباد : بم دھماکہ کے الزام میں گرفتار سبھی 10 مسلم نوجوان 12 سال بعد باعزت بری

Aug 10, 2017 05:13 PM IST | Updated on: Aug 10, 2017 08:08 PM IST

حیدرآباد: شہر حیدرآباد کی بیگم پیٹ کی ٹاسک فورس آفس میں 2005میں ہوئے بم دھماکہ کے معاملہ میں عدالت نے سبھی 10 نوجوانوں کے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان کو بے گناہ قراردیا۔نامپلی کی عدالت نے آج یہ فیصلہ سنایا اور کہا کہ استغاثہ ملزمین کے خلاف شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا ۔یہ فیصلہ تقریبا 12سال بعد آیا ہے۔پولیس نے 20افراد کو ملزم بنایا تھا جن میں سے اب تک تین کی موت ہوگئی ہے۔عدالت نے 10 نوجوانوں کو بے گناہ قرار دیا۔اس معاملہ میں مزید تین ملزم فرار ہیں۔اس بم دھماکہ میں پولیس کا ایک ہوم گارڈ ستیہ نارائنا اور بنگالی شہری دلان ہلاک ہوگیا تھا۔پولیس نے ان نوجوانوں کو اس معاملہ میں گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا تھا ۔

آج عدالت نے ان نوجوانوں کے خلاف الزامات کو مسترد کردیا ۔عدالت کے باہر میڈیا کا ہجوم دیکھا گیا ۔عدالت نے شواہد نہ ہونے پر ان نوجوانوں کو اس مقدمہ میں بے قصور قرار دیا۔پولیس نے اس بم دھماکہ کے لئے بنگلہ دیش کی حرکت المجاہدین نامی تنظیم کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔

حیدرآباد : بم دھماکہ کے الزام میں گرفتار سبھی 10 مسلم نوجوان 12 سال بعد باعزت بری

ان بری نوجوانوں میں حیدرآباد کے نوجوان عبدالزاہد،عبدالکلیم ،شکیل ، عظمت علی، خواجہ ،سید حاجی، کولکاتہ کے ہلال،نفیس البسواس اور دیگر شامل ہیں۔یہ نوجوان چنچل گوڑہ اور دوسری جیلوں میں محروس ہیں۔ عدالت کے اس فیصلہ پر وکیل دفاع نے مسرت کااظہارکرتے ہوئے اس فیصلہ کا استقبال کیاہے۔اسی دوران اس بات کی اطلاعا ت مل رہی ہیں کہ استغاثہ اس فیصلہ کے خلاف حیدرآباد ہائی کورٹ سے رجوع ہونے پر غورکررہاہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز