تلنگانہ : ریزرویشن کی حد میں اضافہ کا بل منظور، مسلمانوں کو 4 فیصد کی بجائے اب 12 فیصد ملے گا ریزرویشن

Apr 16, 2017 03:01 PM IST | Updated on: Apr 16, 2017 04:52 PM IST

حیدرآباد: تلنگانہ اسمبلی میں خصوصی سیشن میں تلنگانہ ریزرویشن بل کو منظوری دے دی جس کے ذریعہ بی سی ای زمرہ کے 4فیصد ریزرویشن کے کوٹہ کو 12فیصد اور ایس ٹی 6فیصد ریزرویشن کو بڑھاکر 10فیصد کردیا گیا ہے۔ بی سی ای زمرہ میں مسلمان بھی شامل ہیں۔ اس بل کی منظوری کے لئے اسمبلی جس کا خصوصی سیشن طلب کیا گیا تھا‘ میں گرما گرم مباحث ہوئے۔ بی جے پی نے اس بل کی شدت کے ساتھ مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل مذہب کی بنیاد پر ہے۔ تاہم حکمران بنچس نے بار بار دعویٰ کیا کہ یہ بل سماجی۔ اقتصادی پسماندگی کی بنیاد پر ہے ۔

بی جے پی جس کے ارکان نے ایس ٹی ریزرویشن میں اضافہ کا استقبال کیا لیکن بی سی ای ریزرویشن میں اضافہ کی مخالفت کی ۔ ایوان کے وسط میں پہنچ کر کارروائی میں رکاوٹ پر ان ا رکان کو معطل کردیا گیا۔وزیر اعلی چندرشیکھرراو جنہوں نے بل پیش کیا ‘ اس کی حمایت میں مضبوط دلائل پیش کئے ۔ انہو ں نے کانگریس کے ارکان سے اپیل کی کہ وہ اس پر الجھن کا شکار نہ ہوں اور ایوان کو الجھن میں نہ ڈالیں۔

تلنگانہ : ریزرویشن کی حد میں اضافہ کا بل منظور، مسلمانوں کو 4 فیصد کی بجائے اب 12 فیصد ملے گا ریزرویشن

کے چندرشیکھرراو: فائل فوٹو، پی ٹی آئی

ریاستی حکومت کو اس بات کا یقین ہے کہ ریزرویشن کا فیصد 50سے زائد ہونے پر مرکز اس بل کو دستور کے 9ویں شیڈول میں شامل کرے گی۔ اس بل کو تلنگانہ پسماندہ طبقات ‘ درج فہرست اقوام بل کا نام دیا گیاہے ۔ وزیر اعلی چندرشیکھرراو نے کہا کہ بی جے پی اقتدار والی راجستھان حکومت نے بھی گجروں اور جاٹ طبقہ کے احتجاج کے بعد ریزرویشن کے کوٹہ کو 68فیصد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے قرار داد منظور کی تھی۔ انہو ں نے کانگریس کے رکن جیون ریڈی کے اظہار خیال کے موقع پر کئی مرتبہ وضاحت کے لئے مداخلت کی ۔

بی جے پی کے فلور لیڈر کشن ریڈی کا جواب دیتے ہوئے چندرشیکھرراو نے وضاحت کی کہ یہ ریزرویشن مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ خالص سماجی ۔ اقتصادی پسماندگی کی بنیاد پر دیا گیا ہے اور اس بل میں کہیں بھی مذہب لفظ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ انہو ں نے پارٹی کے منشور میں 12فیصد ریزرویشن کی یقین دہانی کروائی تھی ۔ چندرشیکھر راو نے کہا کہ ایسا کرنے میں کوئی غلط بات نہیں ہے ۔ کانگریس کے رکن جیون ریڈی نے ریزرویشن کے فیصد میں اضافہ کے تلنگانہ حکومت کے قدم کا استقبال کیا اور کہاکہ ’’ کبھی نہ ہونے سے بہتر یہ ہے کہ یہ کام تاخیر سے کیا جائے ‘‘۔

انہوں نے حکومت سے خواہش کی کہ ایڈوکیٹ جنرل کو ایوان میں طلب کیا جائے تاکہ ارکان اس مسئلہ پر ان سے وضاحت طلب کرسکیں۔ ا نہو ں نے حیرت کا اظہار کیا کہ آیا کوئی عدالت مرکز کو ہدایت دے سکتی ہے کہ وہ بل کو دستور کے نویں شیڈول میں شامل کرے ۔ بی سی کمیشن نے بی سی ۔ ای گروپ کو 10فیصد ریزرویشن کی تجویز پیش کی تھی تاہم حکومت نے اسے 12فیصد کرنے کی تجویز رکھی ہے ۔ انہو ں نے حیرت کا اظہار کیا کہ ایک ہی بل کے ذریعہ بی سی ۔ایس ٹی ریزرویشن کو ایک جگہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اہم سیاسی جماعتوں اپوزیشن کانگریس اور مجلس نے مسلمانوں کور یزرویشن میں اضافہ کے بل کی حمایت کی ہے جبکہ بی جے پی مذہب کی بنیاد پر کوٹہ کی مخالفت کر رہی ہے۔ حکومت تلنگانہ ،تمل ناڈو کے طرز پر قانون سازی کرنا چاہتی ہے تاکہ بغیر کسی قانونی رکاوٹ کے وہ اس پر آسانی سے عمل کرے ۔مجلس نے مسلمانوں کے لئے ریزرویشن کی حد میں اضافہ کے بل کی حمایت کی۔ اس مسئلہ پراسمبلی میں مجلسی رکن اسمبلی احمد پاشاہ قادری نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وزیراعلی کے چندرشیکھرراو بی سی ایف زمرہ بناتے ہوئے دیگر تمام مسلمانوں کو بھی ریزرویشن میں شامل کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کو ریزرویشن کے لئے مجلس ابتدا ہی سے کوششیں کر رہی ہے۔ مجلس کے سابق صدر عبدالواحد اویسی نے اس سلسلہ میں سب سے پہلے پہل کی تھی۔انہوں نے کہاکہ مجلس اس طرح کے بل کی حمایت کرتی ہے اور اس اقدام پر حکومت سے نیک تمناوں کا اظہار کرتی ہے۔

ا نہوں نے کہ اس بل کے ذریعہ ہونے والے ریزرویشن کی حد میں اضافہ سے پسماندہ طبقات کی معیار زندگی میں اضافہ ہوگا۔دستورہند کے تحت فراہم کردہ مواقع کے تحت فیصلہ کی یہ مثبت پہل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مجلس چھ دہائیوں سے پسماندگی کی بنیاد پر مسلمانوں کو ریزرویشن کی حمایت کرتی آرہی ہے۔

ادھر مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی فراہمی کے خلاف احتجاج کرنے والے بی جے پی کے لیڈروں اور کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ بی جے پی کے لیڈروں اور کارکنوں نے شہر حیدرآباد کے ایس آر نگر علاقہ میں اس سلسلہ میں احتجاج کیا جس پر پولیس نے ان احتجاجیوں کو حراست میں لے کر ان کو گوشہ محل اسٹیڈیم منتقل کردیا ۔اس مسئلہ پر نامپلی پولیس اسٹیشن کے قریب بھی ہلکی کشیدگی دیکھی گئی کیونکہ اس بل کے خلاف ریاستی اسمبلی کے گھیراو کی کوشش کے لئے اسمبلی کی طرف جانے والے بی جے پی کے لیڈروں اور کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔

ان لیڈروں اور کارکنوں نے بس کو آگ لگانے کی بھی کوشش کی تاہم پولیس نے ان کو روک دیااور فوری طور پر ان کو حراست میں لے لیا گیا۔دوسری طرف پولیس نے شہر کے بعض علاقوں سے بی جے پی کے لیڈروں اور کارکنوں کو بھی احتیاطی طورپر حراست میں لے لیا ۔ اسی دوران ایل بی نگر علاقہ میں بھی بی جے پی کے لیڈروں اور کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا جو اس مسئلہ پر احتجاج کر رہے تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز