گوری لنکیش زندہ ہوتی اگر اس نے آر ایس ایس کے خلاف نہ لکھا ہوتا ، بی جے پی ممبر اسمبلی جیوا راج کا بیان

Sep 08, 2017 09:51 AM IST | Updated on: Sep 08, 2017 09:52 AM IST

بنگلورو : معروف سینئر خاتون صحافی گوری لنکیش کے قتل کو لے کر بی جے پی لیڈر نے ایک ایسا بیان دیا ہے ، جس کی وجہ سے اب پارٹی کی مشکلات بڑھ گئی ہیں ۔ چک منگلور ضلع کے شرنگیری سے ممبر اسمبلی جیوا راج نے کہا ہے کہ لنکیش زندہ ہوتیں اور انہوں نے آر ایس ایس کے خلاف نہیں لکھا ہوتا ۔ اگر گوری نے آر ایس ایس کارکنان کی موت کا جشن منانے پر نہیں لکھا ہوتا تو آج شاید وہ زندہ ہوتی ۔ بی جے پی ممبر اسمبلی نے کوپا میں پارٹی کارکنان کو خطاب کرتے ہوئے یہ بیان دیا ۔

بی جے پی ممبر اسمبلی نے کہا کہ کانگریس حکومت بننے کے بعد کرناٹک میں بی جے پی اور ہندو تنظیموں کے گیارہ لیڈروں کا قتل ہوچکا ہے ۔ اگر گوری  نے ان قتلوں کی مذمت کی ہوتی اور سدا رمیا حکومت کی تنقید کی ہوتی تو کیا آپ کو نہیں لگتا ہے آج وہ زندہ ہوتی ۔ گوری لنکیش نے اپنی میگزین میں لکھا کہ آر ایس ایس کا قتل اگر وہ ایسا نہیں لکھتی تو آج شاید وہ زندہ ہوتی ۔ گوری بہن کی طرح تھی ، لیکن جس طرح سے انہوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے خلاف لکھا وہ ناقابل قبول تھا ۔

گوری لنکیش زندہ ہوتی اگر اس نے آر ایس ایس کے خلاف نہ لکھا ہوتا ، بی جے پی ممبر اسمبلی جیوا راج کا بیان

بی جے پی لیڈر کی اس بیان کے بعد پارٹی چوطرفہ تنقید کی زد میں آگئی ہے ۔ کرناٹک کے وزیر اعلی نے کہا ہے کہ اس بیان کا کیا مطلب ہے ۔ کیا یہ بیان قاتلوں کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ گوری لنکیش کے اہل خانہ نے بھی اس بیان کی شدید مذمت کی ۔ خیال رہے کہ نامعلوم افراد نے گوری لنکیش کا منگل کی رات کو ان کے گھر پر گولی مار کر قتل کردیا تھا ۔ انہیں پانچ گولیاں ماری گئی تھیں ۔ گوری لنکیش ہندووادی تنظیموں کے خلاف لکھنے کیلئے معروف تھیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز