ٹیپو سلطان نے انگریزوں سے لڑتے ہوئے ہیرو جیسی موت پائی : صدرجمہوریہ کووند ، بی جے پی چراغ پا

صدرجمہوریہ رام ناتھ کوئند نے میسور کے سابق حکمران ٹیپو سلطان کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انگریزوں سے لڑتے ہوئے انہوں نے ہیرو جیسی موت پائی

Oct 25, 2017 04:15 PM IST | Updated on: Oct 25, 2017 04:17 PM IST

بنگلور: صدرجمہوریہ رام ناتھ کوئند نے میسور کے سابق حکمران ٹیپو سلطان کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انگریزوں سے لڑتے ہوئے انہوں نے ہیرو جیسی موت پائی۔ صدرجمہوریہ کا یہ بیان چند دن پہلے ٹیپو سلطان سے متعلق تنازعہ کے اٹھنے کے بعد سامنے آیا ہے کیو ں کہ کرناٹک کی حکومت نے 10نومبر کو ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش تقاریب منانے کامنصوبہ تیار کیا ہے ۔

کرناٹک قانون ساز اسمبلی او رکونسل نے سکریٹریٹ کے 60سال کی تکمیل کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدرجمہوریہ نے کہا کہ انگریزوں سے لڑتے ہوئے ٹیپو سلطان نے ہیرو کی طرح موت پائی۔ وہ جنگی راکٹ کے میسور میں استعمال میں ماہر تھے۔صدرجمہوریہ نے کہا کہ کرناٹک کے عوام کے خواہشات کی اجتماعی طور پر نمائندگی یہ دونوں ایوان کرتے ہیں۔

ٹیپو سلطان نے انگریزوں سے لڑتے ہوئے ہیرو جیسی موت پائی : صدرجمہوریہ کووند ، بی جے پی چراغ پا

صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند ، کرناٹک کے گورنر وجو بھائی والا اور کرناکٹ کے وزیر اعلی سدا رامیا

اسی دوران بی جے پی کے لیڈروں نے ان تقاریب کے دعوت نامے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک شرمناک تقریب قرار دیا۔ مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے نے ٹیپو سلطان کی جینتی کی تقریب میں انہیں مدعو کرنے پر حکومت پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ انہیں اس تقریب کے لئے مدعو نہ کیا جائے ۔

ایس ایشورپاکا وزیر اعلی سدا رمیا سے معافی مانگنے کا مطالبہ

دریں اثنا صدرجمہوریہ رام ناتھ کوئند کی جانب سے ٹیپو سلطان کی ستائش کے نتیجہ میں تنازعہ پیدا ہوگیا۔ قانون ساز کونسل میں  اپوزیشن لیڈر کے ایس ایشورپا نے چیف منسٹر سدارامیا سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکمران کانگریس حکومت کو صدرجمہوریہ کی تقریر میں ٹیپوسلطان کے نام کو شامل نہیں کرنا چا ہئے تھا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے تیار کردہ تقریب صدرجمہوریہ نے پڑھی۔ ایسے سیشن کے دوران گورنر بھی انہیں تیار کردہ تقریر پڑھتے ہیں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایشورپا نے کہا کہ سدارامیا حکومت کو صدرجمہوریہ کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا اور ا نہیں ایسی غیر ضروری حرکت نہیں کرنی چاہئے تھی۔ انہوں نے صدرجمہوریہ کے خطاب میں بی جے پی اور جے ڈی ایس کے وزرائے اعلی کے ناموں کا تذکرہ نہ کرنے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ صرف کانگریس کے وزراء اعلی کے ناموں کو ان کی تقریر میں شامل کیا گیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاستی حکومت نے یہ تقریر تیار کی اور جان بوجھ کر یہ غلطی کی گئی۔

ٹیپو سلطان کا نام لینے میں کوئی غلط بات نہیں : وائی ایس وی دتہ

اسی دوران اسمبلی میں جے ڈی ایس کے لیڈر وائی ایس وی دتہ نے صدرجمہوریہ کی جانب سے ٹیپو سلطان کا نام ان کی تقریر میں لئے جانے کی مدافعت کی اور کہا کہ ٹیپو سلطان کا نام لینے میں کوئی غلط بات نہیں ہے ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہو ں نے کہا کہ یہ تقریر ریاستی حکومت نے تیار نہیں کی ہے اور اگر ایسا سمجھا بھی جائے تو صدرجمہوریہ کا دفتر اس تقریر کا جائزہ لیتے ہوئے اس کو منظوری دیتا ہے اور اگر کوئی تنازعہ ہو تو اسے حذف کردیا جاتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ صدرجمہوریہ کی جانب سے وزرائے اعلی کے نامو ں کا تذکرہ نہ کرنا کوئی غلطی ہے ۔ صدرجمہوریہ دیوے گوڑا کا نام لینا بھول گئے جو ریاست کے وزیراعلی کے ساتھ ساتھ وزیراعظم بھی رہے ہیں۔

ہمیں صدرجمہوریہ کی تقریر کی سماعت کرنی ہوگی: ڈی ایچ شنکرامورتی

قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کے بی کولیواڈ نے کہا کہ ٹیپو سلطان کا نام تقریر میں صدرجمہوریہ کی جانب سے لینا کوئی غلط بات نہیں ہے ۔ قانون ساز کونسل کے صدرنشین ڈی ایچ شنکرامورتی نے کہا کہ ہمیں صدرجمہوریہ کی تقریر کی سماعت کرنی ہوگی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز