بی جے پی اپنی جیت کی خوشی سے سرشار تو کانگریس آئندہ کے لائحہ عمل پر غور میں مصروف

بنگلورو۔ انتخابی جیت کی خوشی سے سرشار بی جے پی نے جہاں اپنی انتخابی کامیابی کو کانگریس کی زہریلی اور منفی سیاست پر عوام کے شدید ردعمل کا تاریخی نتیجہ قرار دیا ہے وہیں کانگریس کے رہنمایان سر جوڑ کر آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کرنے میں لگ گئے ہیں۔

May 15, 2018 12:52 PM IST | Updated on: May 15, 2018 12:52 PM IST

بنگلورو۔ انتخابی جیت کی خوشی سے سرشار بی جے پی نے جہاں اپنی انتخابی کامیابی کو کانگریس کی زہریلی اور منفی سیاست پر عوام کے شدید ردعمل کا تاریخی نتیجہ قرار دیا ہے وہیں کانگریس کے رہنمایان سر جوڑ کر آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کرنے میں لگ گئے ہیں ۔ مرکزی وزیر اور بی جے پی کے رہنما روی شنکر پرساد نے نامہ نگاروں سے کہا کہ یہ ایک تاریخی فتح ہے جس میں وزیراعظم نریندر مودی اور کرناٹک کے عوام نے اہم رول ادا کیا ہے۔ لوگوں نے رنگ ، نسل اور ذات کے فرق سے بالاتر ہوکر وزیراعظم کے پروگرام اور پالیسیوں پر یقین کیا ۔

وزیردفاع نرملا سیتارمن نے کہا کہ کرناٹک کے عوام نے کانگریس کی زہریلی اور منفی سیاست پر وزیراعظم کے ترقیاتی عزائم، منصوبوں اور پروگراموں کے حق میں اپنا انتخابی فیصلہ سنایا ہے۔ وہیں، کانگریس کے اعلی رہنما وزیراعلی سدارمیا کی سرکاری رہائش گاہ پر جمع ہیں جہاں وہ پارٹی کی شکست کے اسباب اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بظاہر غورکررہے ہیں۔ سرجوڑ کر بیٹھنے والے لیڈروں میں اشوک گہلوت، غلام نبی آزاد اور ایم ملک ارجن کھرگے بھی شامل ہیں۔

بی جے پی اپنی جیت کی خوشی سے سرشار تو کانگریس آئندہ کے لائحہ عمل پر غور میں مصروف

وزیراعظم نریندر مودی

حکمراں کانگریس نتائج پر بری طرح حیران ہے۔ اسے اقتدار برقرار رکھنے کا عملی یقین تھا لیکن اس کے امیدوار 65 سیٹوں کو ہی بچاتے نظر آ رہے ہیں۔ بی جے پی کے قدم110 سے متجاوز ہیں۔ بی جے پی کے وزیراعلی کے عہدے کے امیدوار بی ایس یدی یورپا دہلی روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ پارٹی کی جیت کے حوالے سے وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے صدر امیت شاہ سے بات چیت کریں گے۔ وہ پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ کانتی ویرا اسٹیڈیم میں ان کی 17 مئی کو حلف برداری کی تقریب میں مودی اور شاہ شریک رہیں گے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز