مکہ مسجد کی تاریخی عظمت کی بحالی کیلئے حیدرآباد میں اسلامک کلچر سنٹر کا قیام

Jun 05, 2017 09:20 AM IST | Updated on: Jun 05, 2017 09:20 AM IST

حیدرآباد : اقلیتوں کی ہر شعبہ حیات میں ترقی اور معاشی خوشحالی تعلیم کے بغیر ممکن نہیں اور اقلیتوں کی ترقی کے بغیر کسی ریاست یا ملک کی ترقی محال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت تلنگانہ اقلیتوں کی تعلیم پر توجہ مرکوز کررہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مسٹر اے کے خان آئی پی ایس ریٹائرڈ مشیر برائے اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ نے کیا۔  مسٹر اے کے خان آج صبح میڈیا پلس حیدرآباد کے زیر اہتمام صحافت سے ملاقات پروگرام سے مخاطب تھے جس کا میڈیا پلس آڈیٹوریم گن فاؤنڈری حیدرآباسد میں اہتمام کیا گیا تھا۔ شہ نشین پر ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز منیجنگ پارٹنر میڈیا پلس و ایڈیٹر گواہ، مسٹر محمد شہاب الدین ہاشمی سینئر جرنلسٹ اور مسٹر سید خالد شہباز سی ای او میڈیا پلس موجود تھے۔

مسٹر اے کے خان نے اقلیتی بہبود سے متعلق مختلف امور پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ تلنگانہ مائناریٹی ریسیڈنشیل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس سوسائٹی جس کے وہ چیرمین ہیں‘ کہا کہ ان ریسیڈنشیل اسکولس سے اگلے سات آٹھ برس کے دوران لگ بھگ ایک لاکھ 35ہزار اقلیتی طلبہ فارغ التحصیل ہوں گے۔  ریاست میں اقلیتی آبادی 44لاکھ ہے۔ تصور کیا جائے کہ ریسیڈنشیل اسکولس سے کتنے اقلیتی خاندانوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سدھیر کمیٹی رپورٹ، سچر کمیٹی رپورٹ کی روشنی میں اقلیتوں کی پسماندگی کو تعلیم سے دور کیا جاسکتا ہے۔  تلنگانہ مائناریٹی ریسیڈنشیل اسکولس سے اقلیتوں کو تعلیم کے میدان میں خود مختار بنایا جاسکتا ہے انہیں بہترین شہری بننے میں مدد دی جاسکتی ہے اور یہ اپنے ارکان خاندان کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لئے کارآمد ثابت ہوں گے۔

مکہ مسجد کی تاریخی عظمت کی بحالی کیلئے حیدرآباد میں اسلامک کلچر سنٹر کا قیام

مسٹر اے کے خان نے بتایا کہ مستقل عملے کا بھی تقرر عمل میں لایا جارہا ہے۔ اندرون شہر کے لئے ماہانہ 42ہزار اور بیرون حیدرآباد خدمات انجام دینے والوں کے لئے 39ہزار ماہانہ ادا کئے جائیں گے۔ مسٹر اے کے خان نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ کا محکمہ اقلیتی بہبود ہونہار طلبہ کی بیرونی ملک اعلیٰ تعلیم کے لئے صدفیصد اسکالرشپ فراہم کرے گا۔  امریکہ، کناڈا، برطانیہ، سنگاپور اور آسٹریلیا کی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم کے لئے داخلہ لینے والوں کے لئے بالخصوص بی ٹیک اور بی ای کے بعد ایم ایس کے لئے اسکالرشپ دی جائے گی۔ اس سال اس اسکالرشپ کا 10فیصد بجٹ ہیومانیٹیز اور سوشل سائنسس کیلئے مختص کیا گیا ہے۔  سیول سرویسز کی تیاری کرنے والے 100 اہل امیدواروں کے لئے بھی فنڈ فراہم کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیول سرویسز، بینکنگ، انشورنس سیکٹر کے امیدواروں کے لئے حیدرآباد ایک اہم مرکز بن گیا ہے۔ یہاں کا ماحول، آب و ہوا، تعلیم کے لئے سازگار ہے۔

مسٹر اے کے خان نے پسماندہ اقلیتی آبادی والے علاقوں میں معاشی خوشحالی کے لئے تجارت ناگزیر ہے۔ اور تجارت کے لئے پیسہ ضروری ہے۔ اکثر لوگ مختلف ذرائع سے پیسہ قرض لے کر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ترقی کے بجائے مزید زوال پذیر ہوجاتے ہیں۔  تلنگانہ اسٹیسٹ مائناریٹی فینانس کارپوریشن ایسے ہی اقلیتی طبقوں کے لئے قائم کیا گیا ہے جو مختلف شعبہ جات میں صنعت و تجارت کے مقاصد کے لئے قرض فراہم کرتا ہے۔ مسٹر اے کے خان نے محکمہ اقلیتی بہبود کے زیر انتظام تمام کمپیوٹر سنٹرس کو عصری سانچوں میں ڈھالنے کے عزائم کا اظہار کیا۔  ان تمام کمپیوٹر سنٹرس میں نئے کمپیوٹر سسٹم اور جدید سافٹ ویئر فراہم کئے جائیں گے۔ اور انہیں انٹی گریٹیڈ لائبریری سے مربوط کیا جائے گا۔ مکہ مسجد سے متعلق ایکس وال کے جواب میں مسٹر اے کے خان نے کہا کہ یہ جہاں مسلمانوں کی تاریخی عبادت گاہ ہے وہیں سیاحت کا مرکز بھی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز