رائچورمیں ہندو مسلم کے ہاتھوں وشنو مندرکی تعمیر اور عربی مدرسہ کا قیام

Mar 22, 2017 02:50 PM IST | Updated on: Mar 22, 2017 02:50 PM IST

رائچور۔ دانشوروں کا ماننا ہے کہ قومی یکجہتی ایک ایسا عمل ہے جس سے وحدت، اتحاد، ایکتا اور جذباتی ہم آہنگی کے تصورات عوام کے دلوں میں بیدار ہوں اور مملکت سے وفاداری اور مشترکہ شہریت کا تصور پید اہو۔ کرناٹک کے رائچور شہر کے ایک چھوٹی سے کالونی کے عوام نے اسے سچ کردکھایا ہے ۔ یہاں کے لوگوں کے اس کارنامہ کو پورے ملک کے لیے ایک مثال قراردیا جا رہا ہے ۔    کرناٹک کے رائچور کا شمار ریاست کے قدیم اور تاریخی شہروں میں کیا جاتا ہے ۔ زمانہ قدیم کی طرح یہاں پر ابھی بھی گنگا جمنی تہذیب جھلکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ رائچور شہر میں آزادی سے لیکر اب تک فرقہ وارانہ کشیدگی یا فسادات کے واقعات پیش نہیں آئے ہیں ۔ رائچور کی برنداون کالونی کا شمار شہرکی پاش کالونیوں میں کیا جاتا ہے ۔ یہاں پر بلالحاظ مذہب وملت لوگ رہتے ہیں ۔

رائچورمیں ہندو مسلم کے ہاتھوں وشنو مندرکی تعمیر اور عربی مدرسہ کا قیام

حالانکہ برنداون کالونی مسلمانوں کے کثیر آبادی والے علاقوں کے درمیان قلب شہر میں واقع ہے لیکن کے یہاں لوگوں نے نہ صرف رائچور شہر بلکہ پورے ملک کے لئے ایک مثال قائم کی ہے ۔ برنداون کالونی کے ہندو مسلم بھائیوں نے مل جل کر ایک وشنو مندر تعمیر کرنے کے علاوہ عربی مدرسہ قائم کیا ہے ۔ایسا بہت کم ہی دیکھا جاتا ہے کہ مندر کے افتتاحی کتبے پر مسلمانوں کا نام ہو اور عربی مدرسہ کے افتتاحی کتبہ پر ہندو بھائیوں کا نام ہو ۔ لیکن برنداون کالونی کے باشندوں نے ایسا کردکھایا ہے ۔ 19مارچ کو برنداون کالونی میں عربی مدرسہ کی افتتاحی تقریب کا انعقاد عمل میں آیا ۔ اس موقع پر علماء کرام کے علاوہ مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے شرکت کی ۔ واضح رہے کہ مدرسہ کی افتتاحی تقریب کی طرح گذشتہ مہینے 19 فروری کو یہاں وشنو مندر کا بھی افتتاح عمل میں آیا  ۔ مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے برنداون کالونی کے باشندوں کے اس اقدام کو مثالی قرار دیا ۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز