حکومت اوروقف بورڈ کی مدد کے بغیرعیدگاہ کی حصاربندی، وقف کی زمین پرکامپلیکس کی تعمیر

May 23, 2017 06:01 PM IST | Updated on: May 23, 2017 06:01 PM IST

کولار۔ اپنی مدد آپ کی ایک بہترین مثال کرناٹک کے کے جی ایف شہر میں دیکھنے کوملی ہے۔ یہاں کےمسلمانوں نے حکومت اوروقف بورڈ کی مدد کا انتظارکیے بغیرعیدگاہ کی حصاربندی اور وقف کی زمین پرکامپلیکس تعمیرکیا ہے۔ بنگلوروسے تقریبا90کیلومیٹر کی دوری پرواقع ’’کے جی ایف‘‘ شہر کے مسلمانوں نے دیگر مسلمانوں کے لئے مثال قائم کی ہے۔ شہر کے اشوک نگر میں موجودعید گاہ گزشتہ کئی سالوں سے تنازعہ کا سبب بنا ہوا تھا اوراس کی حفاظت ضروری بن گئی تھی ۔ لہذا یہاں کے مسلم نمائندوں نےعلاقہ کے ہندوؤں کواعتماد میں لیکرعیدگاہ کی حصاربندی کا کام شروع کیا۔17لاکھ روپئےکے تخمینہ سےچاروں طرف دیواراورباب داخلہ بنایا گیا۔ نہ حکومت اور نہ ہی وقف بورڈ کی مالی مدد کا انتظارکیے بغیرعیدگاہ کے کمپاؤنڈ کی تعمیرعمل میں آئی۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر ضلع انچارج وزیررمیش کمار نے ’’کے جی ایف‘‘ کے مسلمانوں کےاس جذبہ کوسلام کیا۔

عیدگاہ کی حصاربندی کے ساتھ کولارگولڈ فیلڈ کے مسلمانوں نےایک اورکارنامہ انجام دیا ہے۔ شہرکے بس اسٹینڈ کے قریب موجود وقف کی زمین پر48 لاکھ روپئےکی لاگت سے شاپنگ کامپلیکس تعمیرکیا ہے۔ اس کامپلیکش کو کرناٹک کی مشہورشخصیت مرحوم عزیزسیٹھ کےنام سےمنسوب کیا گیا ہے۔ کامپلیکس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر وقف املاک کے تحفظ اورترقی پرزور دیا گیا۔ کرناٹک میں وقف املاک پرناجائزقبضوں، وقف آمدنی میں خردبُرد، بدعنوانی کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ کئی معاملات میں خود مسلمان بھی ملوث ہیں۔ اس صورتحال میں کے جی ایف کےمسلمانوں کی کوشش مشعل راہ کہی جا سکتی ہے۔

حکومت اوروقف بورڈ کی مدد کے بغیرعیدگاہ کی حصاربندی، وقف کی زمین پرکامپلیکس کی تعمیر

ری کمنڈیڈ اسٹوریز