تلنگانہ : کانگریس لیڈر کا وزیر اعلی سے نو تشکیل شدہ 31 اضلا ع میں اردو کے درجہ کی وضاحت کا مطالبہ

Jun 01, 2017 11:16 PM IST | Updated on: Jun 01, 2017 11:16 PM IST

حیدر آباد : کانگریس کے سینئر لیڈر اور تلنگانہ لیجسلیٹو کونسل میں اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے وزیر اعلی تلنگانہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تلنگانہ کے نو تشکیل شدہ 31 اضلاع میں اردو کے مقام کی وضاحت کریں۔ اس سلسلہ میں تلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندرا شیکھر راؤ کو ایک خط لکھتے کر محمد علی شبیر نے ریاستی اردو اکیڈمی کےتحت چلنے والے کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریوں کو بند کرنے کی وجہ بھی دریافت کی ہے۔

متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں تلنگانہ کے 10 اضلا ع میں سے نو اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا تھا اور تلنگانہ کے قیام کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ تلنگانہ کی ٹی آرایس حکومت حسب وعدہ اردو کو بطور سرکاری زبان نافذ کروانے کے اقدامات کرے گی ، لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ محمد علی شبیر نے وزیر اعلی تلنگانہ کو ایک مکتوب لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ تلنگانہ کے تمام 31 اضلا ع میں اردو کو نہ صرف دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے ، بلکہ اس کے نفاذ کے لئے سرکاری دفا تر میں مناسب وسائل فراہم کیے جائیں ۔

تلنگانہ : کانگریس لیڈر کا وزیر اعلی سے نو تشکیل شدہ 31 اضلا ع میں اردو کے درجہ کی وضاحت کا مطالبہ

انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کے مائنارٹیز ریزیڈنشیل اسکولوں کی عمارتوں کو دیگر سرکاری دفاتر کے حوالے کر دیا ہے ۔محمد علی شبیر نے اسکولس اسکیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ریاست کے اقلیتوں کو فائدہ ہوگا ، لیکن ریاستی حکومت کو چاہیے کے وہ اس کے لئے مستقل ٹیچرس اور مستقل عمارتوں کا جلد از جلد انتظام کرے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز