شاعری کے فن اور عروض کو نئی نسل تک پہنچانے کیلئے نئی پہل کا آغاز ، درس شاعری کا انعقاد

Oct 19, 2017 02:00 PM IST | Updated on: Oct 19, 2017 02:00 PM IST

حیدرآباد: شاعری میں وزن کا التزام عربی زبان کا مرہون منت ہے، آج سے ڈیڑھ ہزار سال قبل تک بھی زمانہ قدیم کی کسی بھی زبان میں شعر گوئی کے لئے اوزان کا لزوم نہیں تھا، در حقیقت ادبیات عالم میں موزوں شاعری کی تخلیق کا سہرا اسلامی کلچر کے سر جاتا ہے، ازمنہ قدیم میں عبرانی، سریانی اور پرانی فارسی میں بھی بحرو وزن کا کوئی تصور نہیں تھا، اردو زبان کے عروض میں بھی عربی میزان بحور ہی کار فرما ہے تاہم زیادہ تر بحریں عربی کے لئے مخصوص ہیں، لگ بھگ 9 بحروں کے اوزان اردو شاعری کے مزاج سے میل کھاتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار شہر حیدرآباد کے اردو کے مشہور شاعر جناب سردار سلیم نے''درس شاعری'' کے عنوان سے منعقدہ تنظیم'' ادب گاہ'' کے آٹھویں ورکشاپ میں کیا، انہوں نے دوران درس یہ بھی بتایا ’’ شاعری میں الفاظ کو تخلیقی سطح پر کیسے برتا جاتا ہے، حروف ملفوظی غیر مکتوبی اور حروف مکتوبی غیر ملفوظی کی تقطیع میں کیا حیثیت ہوتی ہے، نیز اشعار کے وزن کو جانچنے کا صحیح طریقہ کیا ہے‘‘۔ سردار سلیم نے کہا کہ فن عروض شاعری کے وقیع فنون کا ایک اہم اور لازمی حصہ ہے، تاہم بحر و وزن کو جانچنے کا اور تقطیع کرنے کا مرحلہ کافی اہم ہے، سب سے پہلے قوت متخیلہ، مطالعہ کاینات اور ذخیرہ الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے۔موجودہ دور میں رموز شاعری سے واقفیت حاصل کرنے کا رجحان دم توڑتا جا رہا ہے، جبکہ یہ فنون لطیفہ کا عظیم ورثہ ہے اور اس ورثہ کی حفاظت ہم اردو والوں کی ذمہ داری ہے۔

شاعری کے فن اور عروض کو نئی نسل تک پہنچانے کیلئے نئی پہل کا آغاز ، درس شاعری کا انعقاد

گزشتہ چند ہفتوں سے ادب گاہ تنظیم کے زیرِ اہتمام بے لوث انداز میں پابندی اور کامیابی کے ساتھ اہل سخن اور ادب کے طالب علموں کے لئے حیدرآباد ورکشاپ منعقد کیا جا رہا ہے تاکہ شعر وادب سے سروکار رکھنے والے فن شاعری کے مسائل سے آگاہ ہوں اور نئی نسل سے تعلق رکھنے والے شعراء مستقبل کے معیاری فن داں بن سکیں۔اس پر کافی بہتر ردعمل دیکھا جارہا ہے کیونکہ یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ موجودہ دور میں شاعری او راس کے رموز سے رغبت میں نوجوان نسل میں کمی کا رجحان پایا جاتا ہے ۔

ان کو شاعری شناس بنانے کے ساتھ ساتھ رموز شاعری سے آگہی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔اس سلسلہ میں سردارسلیم نے مساعی کی ہے اوریہ ایک انوکھی پہل ہے۔ان کی ا س کوشش کی مختلف شعرا ، ادیبوں اور صحافتی برادری کی جانب سے کافی ستائش کرتے ہوئے اسے ایک قابل تقلید اقدام قرار دیا جارہا ہے۔اسی پہل کے حصہ کے طوپر سردار سلیم کی جانب سے باقاعدہ طورپر کلاسس کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سی لسانی پیچیدگیاں ہوتی ہیں جن کا علم شاعر کو ہونا چاہیے۔

ان کی اس انوکھی کلاسز سے استفادہ کرنے والوں نے کہا ’’ ہم بڑے عجیب حالات سے گذررہے ہیں کہ ہر استاد اپنے خزانہ علم و فن کو اپنے ساتھ ہی لئے رخصت ہونا چاہتا ہے ایسے حالات میں سردار سلیم نے اپنے فن کو دوسروں تک پہنچانے کا ارادہ کیا ہے اور باضابطہ آغاز بھی کردیا ہے۔اہل ذوق کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع سے استفادہ کریں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل میں جناب سردار سلیم کو صحت وعافیت سے رکھے اور عمردراز عطا فرمائے‘‘۔

شرکاء درس میں پختہ کار اور نو مشق شعراء کی قابل لحاظ تعداد موجود تھی جن میں قاضی اسد ثنائی، تمجید حیدر، وحید پاشاہ قادری، نور الدین امیر، محمد خان بیابانی، فیضان، مفتی اختر ضیا، محمد بن احمد باوزیر، اسماعیل قدیر، لطیف الدین لطیف، ایڈوکیٹ سلطان محمود، ڈاکٹر معین افروز، جہانگیر قیاس، سہیل عظیم، فرید زاہد، یوسف قدیر، غوث محی الدین ساجد، محمد بن احمد با وزیر، نصیر شرفی، اسماعیل قدیر، اظہر لطیفی قابل ذکر ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز