کرناٹک : عدالتوں سے باعزت بری ہونے والے مسلم نوجوانوں کی باز آبادکاری کا مطالبہ

Mar 12, 2017 03:12 PM IST | Updated on: Mar 12, 2017 03:12 PM IST

گلبرگہ : کرناٹک کے وزیر اعلی سدارمیا، وزیر خزانہ کے طور پر15 مارچ کو اپنے سیاسی کیرئیر کا12 واں بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں۔ ایسے میں اقلیتی طبقہ بھی بجٹ پر نظریں مرکوز کئے ہوئے ہے۔ جہاں اقلیتی طبقہ حکومت سے تعلیمی شعبہ میں مراعات کا مطالبہ کر رہا ہے، وہیں عدالتوں سے بے قصور قرار دئے جانے والے مسلم نوجوانوں کی باز آباد کاری کیلئے خصوصی پیکیج کی بھی حکومت سے مانگ کی جارہی ہے۔

ملک کے دیگر مسلمانوں کی طرح کرناٹک کے مسلمانوں کے مسائل بھی تعلیم، روزگار، سماجی تحفظ، ریزرویشن ، اردو اور اوقاف کے آس پاس ہی گھومتے ہیں ۔ دانشوران اقلیتی طبقے کے لیے تعلیمی مراعات کا وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کر رہے ہیں ۔ کانگریس نے2013 میں انتخابی منشور میں مسلمانوں کو لبھانے کے لئے کئی ایک وعدے کئے تھے۔ کچھ تو پورے ہوئے ہیں اور کچھ باقی ہیں ۔ ایسے میں بجٹ سے قبل دانشوران کانگریس کو پرانے وعدے یاد دلا رہے ہیں ۔

کرناٹک : عدالتوں سے باعزت بری ہونے والے مسلم نوجوانوں کی باز آبادکاری کا مطالبہ

وزیراعلیٰ سدا رمیا گزشتہ بجٹ میں بھی کئی ایک خوش کن اعلانات کئے تھے ، جو کہ ایک سال کی تکمیل کے باوجود بھی پورے نہیں ہوئے ہیں۔ دانشوروں نے گزشتہ بجٹ کے اعلانات پر بھی حکومت سے وضاحت طلب کیا ہے۔

کرناٹک میں اقلیتوں کی 16 فیصد آبادی ہے جس میں مسلمانوں کے علاوہ عیسائی، سکھ ، جین اور پارسی بھی شامل ہیں ۔ گزشتہ بجٹ میں سدرامیا نے16 فیصد اقلیتی آبادی کیلئے1375 کروڑ روپئے مختص کیے تھے۔ اس بار 1500 کروڑ سے زائد رہنے کے امکانات ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز