رائچور ضلع میں وقف مشاورتی کمیٹی کے سب ڈویژن آفس قائم کرنے کا مطالبہ

Sep 20, 2017 07:49 PM IST | Updated on: Sep 20, 2017 07:49 PM IST

 رائچور۔ ملک میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے مرکزی اور ریاستی حکومتیں مختلف اقدامات کررہی ہیں ۔ اس کے باوجود محکمہ اوقاف کو وسائل کی کمی اور ملازمین کی قلت جیسے کئی مسائل درپیش ہیں ۔ کرناٹک ریاست میں ابھی بھی لوگوں کو اوقاف سے متعلق مسائل کے حل کے لئے دور دراز علاقوں سے ضلع ہیڈ کوارٹر کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔ کرناٹک کے رائچور ضلع میں ہزاروں کی تعداد میں عیدگاہ ، مساجد ، درگاہیں اور عاشورخانے موجود ہیں ۔ تقریبا تین ہزار ادارے  ضلع وقف مشاورتی کمیٹی رائچور کے دائرے اختیار میں ہیں ۔اس کے علاوہ یہاں پر 25 بڑے ادارے ہیں، جن کی آمدنی ایک لاکھ سے بڑھ کر ہے ۔ جن کی دیکھ بھا ل، حفاظت اور سروے جیسے اہم ترین کام ضلع وقف مشاورتی کمیٹی کو کرنا ہے ۔ ضلع میں گذشتہ کئی برسوں سے یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ اتنے بڑے ضلع میں ضرورت کے لحاظ سے  ہمیشہ اسٹاف کی قلت رہی ہے ۔

وہیں دوسری طرف گذشتہ چند دنوں سے یہ بھی مانگ کی جا رہی ہے کہ جس طرح سرکاری سطح پر سب ڈیویزنس ہیں، اسی طرح رائچور ضلع کے سندھنور اور لنگسگور میں بھی  ضلع وقف مشاورتی کمیٹی کے سب ڈیویزن آفس قائم ہوں تاکہ دور دراز علاقوں کے متولیوں اور وقف سے جڑے افراد کو طویل سفر کرکے ہیڈکوارٹر پہنچنے کی زحمت سے بچایا جا سکے اور جو بھی اوقافی معاملات ہیں اسکا تیزی سے حل نکالا جاسکے ۔

رائچور ضلع میں وقف مشاورتی کمیٹی کے سب ڈویژن آفس قائم کرنے کا مطالبہ

قابل ذکربات یہ ہے کہ گذشتہ دو سال کے دوران ریاست بھرمیں کئی درجن عہدیداروں اورملازمین نے محکمہ اوقاف کو الوداع کہہ دیا ہے۔ واضح رہے کہ دفتراسٹیٹ وقف بورڈ سے موصول اطلاع کے مطابق رائچور ضلع وقف مشاورتی کمیٹی کو تحلیل کیا گیا ہے اور ضلع ڈپٹی کمشنر بگاڑی گوتم کو ایڈمنسٹریٹر نامزد کیا گیا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز