یوپی کی طرح کرناٹک کے اقلیتوں میں بھی اگلے اسمبلی انتخابات کو لے کر سیاسی بے چینی

اترپردیش کی اقلیتوں کی طرح کرناٹک کے اقلیتوں میں بھی اگلے اسمبلی انتخابات کے تناظر میں سیاسی بے چینی نظر آ رہی ہے ۔

Mar 24, 2017 09:16 PM IST | Updated on: Mar 24, 2017 09:16 PM IST

گلبرگہ : اترپردیش کی اقلیتوں کی طرح کرناٹک کے اقلیتوں میں بھی اگلے اسمبلی انتخابات کے تناظر میں سیاسی بے چینی نظر آ رہی ہے ۔ کرناٹک میں مسلمانوں کی آبادی 14 فیصد ہونے کے باوجود اسمبلی میں 14 ممبران اسمبلی بھی نہیں ہیں ، بلکہ12 ہیں۔ اقلیتوں کو ڈر ہے کہ بی جے پی کرناٹک میں بھی پوپی ماڈل کو نظر میں رکھتے ہوئے میدان میں اترے گی ۔

کرناٹک میں اسمبلی انتخابات آئندہ برس ہونے والے ہیں ، لیکن اقلیتوں میں ابھی سے بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ یوپی کے نتائج کے تناظر میں اقلیتوں کو ڈر ہے کہ کرناٹک میں کہیں مسلم قیادت کا صفایا ہی نہ ہوجا ئے۔ دانشوروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی جنوبی ہند کے اس قلعہ کو دوبارہ فتح کرنے کے لیے یوپی کی انتخابی حکمت عملی اپنائے گی ۔ دانشوروں کے مطابق سیکولر جماعتوں کو یوپی کا نہیں بلکہ بہار کا فامورلہ اپنا نا چاہئے ، تب ہی کرناٹک میں بی جے پی کے وجئے رتھ کو روکا جا سکتا ہے ۔

یوپی کی طرح کرناٹک کے اقلیتوں میں بھی اگلے اسمبلی انتخابات کو لے کر سیاسی بے چینی

وہیں بعض حلقے کرناٹک میں سیکولر جماعتوں کے اتحاد کے امکانات کو مسترد کر رہے ہیں ۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یوپی میں سماجوادی پارٹی کو کانگریس کے ساتھ اتحاد میں نقصان ہوا ہے۔ اس لحاظ سے جے ڈی ایس محتاط رہے گی ۔ صاف لگ رہا ہے کہ جے ڈی ایس، کانگریس کے بڑے بھائی کے رویے اور شرطوں کو قبول نہیں کرے گی۔

ادھر بعض مبصرین اقلیتوں کی تشویش کو مسترد کر رہے ہیں اور کرناٹک میں بی جے پی کے امکانات کو خارج قرار دے رہے ہیں ۔ یوپی اورکرناٹک کی صورتحال کو مختلف بتاتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ کرناٹک میں بی جے پی چار گروپوں میں منقسم ہے اور مودی جیسا کوئی لیڈر بھی نہیں ہے ۔ تمام کی نظریں اب جے ڈی ایس پر مرکوز ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ جے ڈی ایس، کانگریس کے ساتھ جاتی ہے یا بی جے پی کے ساتھ یا پھر اکیلے انتخابات کا میں اترتی ہے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز