دستاویزی فلم تنازع : ڈائریکٹر کا کورٹ جانے کا اعلان ، کیرالہ کے وزیر ثقافت نے فسطائی ٹرینڈ قرار دیا

Jun 12, 2017 10:24 PM IST | Updated on: Jun 12, 2017 10:24 PM IST

ترواننت پورم : روہت ویمولا کی خودکشی، کشمیر میں کشیدگی اور جے این یو تنازع پر مبنی تین فلموں کی اسکریننگ پر مرکزی حکومت کے ذریعہ روک لگائے جانے کی جہاں ہر جانب سے تنقید کی جارہی ہے ، وہیں جے این یو تنازع پر مبنی فلم مارچ مارچ مارچ کی ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ وہ اطلاعات و نشریات کی مرکزی وزارت کے اس قدم کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گی ۔ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اجازت نہ دئے جانے کی کوئی قابل قبول وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

خیال رہے کہ کیرالہ میں 16 جون سے منعقد ہونے والے بین الاقوامی ڈاکومنٹری اینڈ شارٹ فلم فیسٹیول میں دکھائے جانے کیلئے تقریبا 200 فلمیں مرکزی وزارت کو بھیجی گئی تھیں ، جن میں روہت ویمولا کی خودکشی پر 'دی انبيریبل بینگ آف لائٹنس، کشمیر میں کشیدگی پر ان دی شیڈس کو فالن چنار اور جے این یو تنازع پر 'مارچ مارچ مارچ بھی شامل تھیں ، مگر ان تینوں فلموں کو سینسر سے چھوٹ نہیں دی گئی ہے۔

دستاویزی فلم تنازع : ڈائریکٹر کا کورٹ جانے کا اعلان ، کیرالہ کے وزیر ثقافت نے فسطائی ٹرینڈ قرار دیا

(Picture for representation).

ادھر کیرالہ کے ثقافتی امور کے وزیر اے کے بالن نے مرکزی حکومت کے اس قدم کو فسطائی ٹرینڈ قراردیا ہے۔ بالن کا کہنا ہے کہ تین شارٹ فلموں کو دکھانے کی اجازت نہ دینا ناقابل قبول ٹرینڈ ہے ۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ جب فلمیں موجودہ سیاسی حالت پر مبنی ہیں تو ان سے کچھ لوگوں کو ڈر کیوں لگ رہا ہے۔ جبکہ کیرالہ اسٹیٹ چل چتر اکیڈمی کے آرگنائزر کا کہنا ہے کہ وہ اس قدم کے خلاف باضابطہ ایک اپیل داخل کریں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز