بلگام ضلع میں پینے کے پانی کی شدید قلت ، 20 دنوں میں ایک مرتبہ سپلائی کیا جارہا ہے پانی

شمالی کرناٹک کے بلگام ضلع میں لوگوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ دو گھڑے پانی کے لیے خواتین کو اپنی ایک روز کی مزدوری قربان کرنی پڑرہی ہے

Mar 30, 2017 09:47 PM IST | Updated on: Mar 30, 2017 09:47 PM IST

بلگام : شمالی کرناٹک کے بلگام ضلع میں لوگوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ دو گھڑے پانی کے لیے خواتین کو اپنی ایک روز کی مزدوری قربان کرنی پڑرہی ہے ۔  یہاں کے گاؤں میں پانی کی شدید قلت ہے اور ـ پنچایت اراکین یا عوامی نمائندے اس جانب توجہ دینے کیلئے بھی تیار نہیں ہیں ۔ ـ خواتین اور لڑکیاں مزدوری پر جانے کی بجائے پانی کا انتظار کرنے پر مجبور ہیں ، جبکہ انہیں روزانہ 300 تا 400 روپئے مزدوری ملتی ہے ـ۔

بلگام ضلع کے ہاروگُپا دیہات میں لوگ بوند بوند پانی کیلئے ترس رہے ہیں۔ یہاں تقریباً 5 ہزار افراد ہیں ۔ ـ مقامی لوگوں کو پینے کا پانی فراہم کرنے کیلئے جو بورویل کھودے گئے تھے ، وہ تمام خشک ہوگئے ہیں ۔ـ دیہات کے ذمہ دارپڑوسی دیہات سے پانی فراہم کرارہے ہیں۔ اس کے باوجود پانی کا مسئلہ حل نہیں ہورہا ہے ۔

بلگام ضلع میں پینے کے پانی کی شدید قلت ، 20 دنوں میں ایک مرتبہ سپلائی کیا جارہا ہے پانی

ـ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہرعلاقہ میں چار دن میں ایک مرتبہ پانی سپلائی کیا جاتا ہے ۔ ـ اس موقع پر ہر کنبہ صرف تین گھڑے پانی حاصل کرسکتا ہے ۔ـ ضلع پنچایت کے افسروں کو بھی اس بابت اطلاع دی جاچکی ہے ، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔ ـ دو گھڑے پانی کیلئے یہاں کے لوگ خصوصاخواتین اورلڑکیوں کودن بھر جدوجہد کرنی پڑرہی ہے ـ ۔ پینے کے پانی کا مسئلہ دن بہ دن شدت اختیار کرتا جارہا ہے ، مگر افسران خاموش ہیں ۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز