حیدرآباد میں جشن میلادالنبی (ص) کی تقاریب مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منائی گئیں

Dec 02, 2017 02:32 PM IST | Updated on: Dec 02, 2017 02:32 PM IST

حیدرآباد۔  شہر حیدرآباد میں جشن میلادالنبی ؐ کی تقاریب نہایت ہی جوش و خروش اور مذہبی جذبہ کے ساتھ منائی گئیں۔ اس سلسلے میں سینکڑوں مقامات سے جلوس برآمد ہونے کے علاوہ سینکڑوں مساجد، زیارت گاہوں، خانقاہوں میں عید میلاد النبی (ص) کی مناسبت سے خصوصی مجالس کا اہتمام کیا گیا۔ لاکھوں کی تعداد میں عاشقان رسول (ص) وعظ و تبلیغ، درود واذکار اور نعت و منقبت میں مصروف رہے جبکہ دن میں جشن میلاد کے عظیم الشان جلوس برآمد ہوئے جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ شہر کے مختلف مقامات پرعاشقان رسول (ص) نے شب خوانی کی روح پرور مجالس میں حصہ لیا اور عاشقان رسول (ص) موئے مقدس کے دیدار سے بھی فیضیاب ہوئے۔

شہر کے کئی مقامات کو سبز پرچموں اور روشنیوں سے منور کیا گیا۔ جگہ جگہ قوالیوں اور نعتیہ کلام کا اہتمام کیا گیا ساتھ ہی خانہ کعبہ اور گنبد خضراء کے ماڈلس بھی لگائے گئے جو لوگوں کی کشش کا سبب دیکھے گئے بالخصوص پرانا شہر حیدرآباد کے علاقوں گلزار حوض ‘ یاقوت پورہ ‘ دبیر پورہ ‘ عیدی بازار ‘ مغل پورہ ‘ خلوت ‘ حسینی علم میں سجاوٹ پر مختلف تنظیمیں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرتی ہوئی دیکھی گئیں۔ مرکزی جلسہ رحمت للعالمینؐ کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کی جانب سے دارالسلام میں منعقد کیا گیا جس کی صدارت حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کی۔ شہر حیدرآباد کی مختلف مساجد ‘ خانقاہوں ‘ درگاہوں اور دیگر مقامات پر بھی جلسوں کا اہتمام کیا گیا اور موئے مبارک کی زیارت کروائی گئی۔ علمائے کرام اور عمائدین ملت نے پیغمبر اسلام (ص) کی حیات طیبہ کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔

حیدرآباد میں جشن میلادالنبی (ص) کی تقاریب مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منائی گئیں

جشن عید میلادالنبی: فائل فوٹو

شہر کے مختلف اجتماعات میں زعمائے ملت نے عالم بشریت کے نجات دہندہ اور سب سے بڑے محسن،پیغمبر اسلام محمد مصطفی (ص) کی ولادت با سعادت کے مبارک موقعہ پر اپنے خطابات میں کہا کہ محسن انسانیت حضرت رحمۃ للعالمین (ص) کی ولادت و بعثت درحقیقت عقیدہ ،فکر ذہن اور تہذیب و تمدن کا ایک خوشگوار انقلاب تھا جس نے مثبت انداز میں انسانی کائنات کی نہ صرف کایا بلکہ تقدیرپلٹ کررکھ دی اور دنیا کے ایک سدا بہار انقلاب سے نہ صرف جغرافیہ بدل دیا بلکہ تاریخ بدل کر ایک نئے اور منفرد تہذیب اور تمدن کی بنیاد ڈالی۔

علما نے حضرت محسن انسانیت (ص) کو بھر پور عقیدت و محبت کے نذرانے پیش کرتے ہوئے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ زبانی جمع خرچی کے بجائے صدق دلی سے آنحضور (ص) کی سیرت مقدسہ، حیات طیبہ اور اسوۂ حسنہ کو عملی زندگیوں میں نافذ کریں تاکہ دور حاضر میں بین الاقوامی سطح پر سامراجی اور صیہونی قوتوں کے ذریعے ایک گھناونی سازش کے تحت مسلسل دین اسلام ،پیغمبر اسلام (ص) ،قرآن حکیم اور مسلمانان عالم کے خلاف جو مکروہ اور مذموم سازشیں رچائی جا رہی ہیں ان کا توڑ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ پیغمبر آخر الزماں(ص) کی عظیم تعلیمات تا قیام قیامت ہر دور کے لوگوں کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح معنوں میں سچا مسلمان اور حقیقی عاشق رسول (ص) بننے کی توفیق اور سعادت عطا کرے اور رسول رحمت(ص) کے اسوۂ حسنہ کو اپنانے کی ہمت اور حوصلہ عطا کرے تاکہ امت مسلمہ بہتر اور احسن طریقے پر انسانیت کی بے لوث اور مخلصانہ خدمت کا اہل بن سکے۔ ہزاروں افراد نے موئے مبارک کی زیارت کی اور درود کا نذرانہ پیش کیا۔ شہر کی مرکزی مسجد مکہ مسجد میں بھی موئے مبارک کی زیارت کروائی گئی اور میلاد کا خطبہ پڑھا گیا۔ مختلف تنظیموں کی جانب سے صبح ہی سے میلاد جلوس نکالے گئے جس میں شرکاء نے سبز پرچم لہراتے ہوئے میلاد کی خوشیاں منائیں اور ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کی۔ سڑکوں کے کنارے بھی بڑے بڑے اسٹیج لگا کر جلوسوں کا استقبال کیا گیا۔ جلوس کے موقع پر پولیس کا معقول بندوبست بھی دیکھا گیا۔مختلف تنظیموں کی جانب سے خون کے عطیے کے کیمپس بھی منعقد کئے گئے۔ شہر میں مختلف مقامات پر جگہ جگہ لوگوں کے لئے طعام کا بھی اہتمام کیا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز