تحقیقی رپورٹنگ اورشہریوں کے بنیادی مسائل کی جانب بھی اردو میڈیا خاص توجہ دے : کے رحمن خان

Mar 25, 2017 09:20 PM IST | Updated on: Mar 25, 2017 09:20 PM IST

بنگلورو : اردوصحافت صرف خبروں اور تجزیوں تک محدود نہ رہےبلکہ تحقیقی رپورٹنگ اورشہریوں کے بنیادی مسائل کی جانب اردو میڈیا خاص توجہ دے۔ بنگلورو میں اردو رپورٹرس کے لیےمنعقدہ ورک شاپ میں ان خیالات کا اظہار کیا گیا ۔کرناٹک اردو اکیڈمی اورروزنامہ سالار کے اشتراک سے بنگلورو میں اردو رپورٹروں کیلئے منعقدہ ورک شاپ کا افتتاح سابق مرکزی وزیر کےرحمن خان نے کیا۔

اس موقع پر کے رحمن خان نے کہا کہ کرناٹک میں اردو صحافت کےفروغ میں روزنامہ سالار اور اُس کے بانی محمود ایاز نے اہم رول ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو صحافت اقلیتوں کی اسکیموں کا تحقیقی اورتنقیدی جائزہ پیش کرے ۔ ملی مسائل کو موثرطریقے سےعوام اورحکومت کے سامنے پیش کرے۔

تحقیقی رپورٹنگ اورشہریوں کے بنیادی مسائل کی جانب بھی اردو میڈیا خاص توجہ دے : کے رحمن خان

اردو اکیڈمی کے صدر عزیزاللہ بیگ نے کہا کہ کرناٹک میں اردو صحافت کا آغاز مجاہد آزادی حضرت ٹیپوسلطان کے دورسے ہوا ۔ بتایا گیا کہ کیسے ٹیپوسلطان نے اپنے فوجیوں کوجانکاری دینے کے لیےفوجی اخبار نکالا تھا ۔ ورک شاپ میں کہا گیا ہے کہ اردومیڈیا شہریوں کے مسائل کو اجاگر کرے۔ عزیزاللہ بیگ نے کہا کہ پانی، بجلی، سڑک، پاکی صفائی اورسرکاری اسکیموں سے وابستہ مسائل کو بھی اہمیت دی جائے۔

سینئر صحافی مقبول سراج نے کہا کہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان صحافت رابطہ کا ذریعہ بنے۔ ورک شاپ میں سیاسی رپورٹنگ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، شہری مسائل، جرائم، ثقافتی اور فیچر رائٹنگ پر بھی ماہرین نے گفتگو کی ۔ رپورٹنگ لئ طرزتحریر، نئی تبدیلیوں اورنئے رجحانات سے رپورٹروں کو واقف کرایا گیا ۔ روزنامہ سالار کے ایڈیٹرافتخاراحمد شریف نے کہا کہ اردو رپورٹرس زبان پرعبورحاصل کریں ۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز