خشک سالی سے متاثر کسانوں کو راحت ، کرناٹک حکومت کا 50 ہزار تک کے قرضہ جات کو معاف کرنے اعلان

Jun 21, 2017 06:56 PM IST | Updated on: Jun 21, 2017 06:58 PM IST

بنگلور: گذشتہ دو برسوں سے شدید خشک سالی کے حالات سے متاثر کسانوں کو ایک بڑی راحت پہنچاتے ہوئے کرناٹک کے وزیراعلی سدارامیا نے آج 50ہزار روپے تک کے فصل کے مختصر مدتی قرضوں کی معافی کا اعلان کیا جس سے تقریباً 22.27 لاکھ کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ فصل کے قرضوں کی معافی کا فائدہ وہ کسان اٹھاسکتے ہیں جنہو ں نے کواپریٹیو بینکس سے قرضہ حاصل کیا ہے۔ اس سے حکومت پر 8165کروڑ روپے کا بوجھ عائد ہوگا۔ اس سے ریاست بھر کے 22,27,506کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔

سدارامیا نے ریاستی اسمبلی میں مختلف محکمہ جات کی گرانٹس کے مطالبات زر پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ حکومت کو کسانوں سے شدید دباو کا سامنا تھاجو مسلسل دو برسوں سے شدید خشک سالی کے سبب فصلوں سے محرومی کا سامنا کررہے تھے اور یہاں تک کہ اپوزیشن بی جے پی اور جنتادل ایس نے بھی فصل پر کسانوں کے قرضوں کی معافی کا مطالبہ کیا تھا۔

خشک سالی سے متاثر کسانوں کو راحت ، کرناٹک حکومت کا 50 ہزار تک کے قرضہ جات کو معاف کرنے اعلان

انہو ں نے کہا کہ کسانوں کی جانب سے کواپریٹیو بینکس سے استفادہ کردہ آوٹ اسٹانڈنگ مختصر مدتی قرض 10,736کروڑ روپے ہے اور50ہزار تک کے تمام مختصر مدتی فصل کے قرضہ جات معاف کئے جائیں گے ۔ حکومت فوری طور پر اس سلسلہ میں حکم جاری کرے گا۔ سدارامیا نے تاہم افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے سنٹرل ‘ رورل اور پی ایس یو بینکس کے ذریعہ کسانوں کی جانب سے حاصل کردہ زرعی قرضوں کی معافی کے ریاستی حکومت کے مطالبہ پر کوئی توجہ نہیں دی۔

یہ قرضہ جات 41ہزار کروڑ روپے کے ہیں جو گذشتہ دو برسوں کے دوران مسلسل خشک سالی کے سبب ہوئے ہیں اور اس سے کرناٹک میں زراعت شدید طور پر متاثر ہوئی اور کسان گہرے بحران کا شکار ہیں۔ انہو ں نے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی پر نکتہ چینی کی جنہوں نے دعوی کیا کہ مرکز ‘ زرعی قرضوں کو معاف نہیں کرے گی اور ریاستی حکومتیں اگر چاہتی ہیں تو وہ اپنے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے ایسا کرسکتی ہیں۔

کرناٹک حکومت کا یہ فیصلہ بی جے پی زیر قیادت اترپردیش ‘ مہاراشٹرا اور کانگریس زیر قیادت پنجاب کی حکومتوں کے اسی طرح کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ اگرچہ کہ اترپردیش کی حکومت نے انتخابی منشور میں زرعی قرضوں کی معافی کا اعلان کیا تھا لیکن کرناٹک حکومت نے اپنے منشور میں نہ ہی اس کا ا علان کیا اور نہ ہی موجودہ بجٹ میں کوئی فنڈس الاٹ کئے۔ اگرچہ کہ اس سے ریاست کے مالیہ پر بھاری بوجھ عائد ہوگا لیکن حکومت کسانوں کے مطالبات پر ردعمل ظاہر کررہی ہے۔حکومت کسانوں ‘ پچھڑے طبقات ‘ پسماندہ طبقات اور دبے کچلے طبقات کی بہبود کے لئے پابند عہد ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز