گوری شنکر کے قتل پر راہل گاندھی، اننت کمار، سدارامیا اور دیگر اہم شخصیتوں کا اظہار افسوس

Sep 06, 2017 04:22 PM IST | Updated on: Sep 06, 2017 04:22 PM IST

 بنگلورو/نئی دہلی۔ ترقی پسند خیالات رکھنے والی مصنف گوری لنکیش کے قتل کی واردات پرمختلف سماجی وسیاسی رہنماوں نے افسوس کا اظہارکیا ہے۔ مرکزی وزیرڈی وی سدا نندا گوڑا نے کرناٹک کی سرکردہ صحافی گوری لنکیش کے قتل کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس واقعہ کو لا اینڈ آرڈر کی ناکامی سے تعبیر کیا۔ گوڑا جن کا تعلق کرناٹک سے ہے نے کہا کہ ریاست کی کانگریس حکومت میں کسی کی جان محفوظ نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دوبرسوں میں ریاست بھرمیں کئی قتل کی وارداتیں ہوئی ہیں۔ انھوں نے قتل کی اس واردات کی جانچ سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔

کانگریس کے نائب صدرراہل گاندھی نے لنکیش کے قتل کو افسوسناک قراردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہلوک کے اہل خانہ کے ساتھ پورا ملک کھڑا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سچائی کودباناچاہتے ہیں لیکن ہندوستان میں یہ ممکن نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواہ کتنے ہی افراد مارے جائیں سچ کو کبھی دبایا نہیں جاسکتا ہے۔ راہل گاندھی نے وزیراعلی سدارامیا سے بات کی۔ ان کاکہناتھاکہ سدارامیا نے یقین دلایا ہے کہ اس واردات کے قصورواروں کوجلد سے جلد گرفتارکرتے ہوئے سزا دلائی جائے گی۔

گوری شنکر کے قتل پر راہل گاندھی، اننت کمار، سدارامیا اور دیگر اہم شخصیتوں کا اظہار افسوس

گوری لنکیش: فائل فوٹو۔

راہل گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم مودی سخت گیرافراد کے خلاف اگرکوئی بیان بھی دیتے ہیں تووہ بھی ذومعنی ہوتا ہے۔ کرناٹک کے وزیر اعلی سد ارامیا نے بھی اس قتل کو جمہوریت کے قتل سے تعبیر کیا ہے۔انہوں نے اسے منظم جرائم قرار دیا اور کہا کہ اس واقعہ کی مکمل جانچ کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملہ کو حکومت نے کافی سنجیدگی کے ساتھ لیا ہے اور خصوصی جانچ ٹیم اس معاملہ کی جانچ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ابھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ سازش کا حصہ ہے۔ رامیا نے کہا کہ لنکیش نے ان سے حال ہی میں ان سے ملاقات کی تھی تاہم اس ملاقات میں انہوں نے ان کو مل رہی دھمکیوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پسند خیالات رکھنے والے مصنفین کو پولیس تحفظ فراہم کرنے کی پولیس کو ہدایت دی گئی ہے۔ کلبرگی ، پنسارے اور دابولکر کے قتل کے سلسلہ میں بھی اسی طرح کے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا تھا۔ یہ تمام ترقی پسند خیالات رکھنے والے مصنفین تھے۔

رامیا نے گوری لنکیش کی آخری رسومات میں شرکت کی اور ان کے غمزدہ ارکان خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس واردات پر پولیس کے اعلی افسروں کے ساتھ میٹنگ طلب کرتے ہوئے خاطیوں کی جلد گرفتاری کی ہدایت دی۔ دوسری طرف کرناٹک کے رکن اسمبلی بی آر پٹیل،سینئر صحافی ملک ارجن سی دا ناوراور نرمدابچاو آندولن کی مشہور جہد کار میدھاپاٹیکر نے بھی گوری لنکیش کے قتل کی واردات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ پاٹیکرکا کہنا ہے کہ گوری سماجی مسائل خاص طور پر فرقہ وارایت کے خلاف کھل کر لکھا کرتی تھیں۔ان کا کہناتھا کہ گوری آرایس ایس اور ہندووتواکی سب سے بڑی نقاد تھیں۔

دوسری طرف گوری لنکیش کے بھائی اندراجیت لنکیش کا کہنا ہے کہ انھیں اس واقعہ پر شدید دھکا پہنچا ہے۔ لنکیش کی والدہ بھی اس خبرسے صدمے میں ہے۔ان کاکہناتھا کہ حملہ آوروں نے ان کی بیٹی کے سینے پر گولیاں ماری تھیں۔ ان کاکہناتھاکہ ان کی بیٹی نے اپنی انکھیں عطیہ کردی تھیں۔ اندراجیت نے اپنی بہن کو جان سے مارنے کی دھمکیوں کی اطلاعات کومسترد کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف افواہیں ہیں۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر و کانگریس کے سینئر لیڈر ملک ارجن کھڑگے نے بھی اس واردات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ گوری لنکیش ایک بہادرخاتون صحافی تھی۔وہ ہمیشہ نام نہاد سادھوسنتوں کے خلاف مضامین لکھا کرتی تھیں۔ کھرگے کاکہنا ہے کہ نظریاتی مخالفین ایسے صحافیوں کونشانہ بنا رہے ہیں۔ انھوں نے جلد سے جلد اس واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرناٹک کے وزیراعلی سے اس سلسلہ میں بات چیت بھی کی گئی ہے۔

بنگلورو میں گوری لنکیش قتل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے صحافی برادران۔ بنگلورو میں گوری لنکیش قتل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے صحافی برادران۔

اسی دوران لنکیش کے قتل کے بعد بنگلورومیں صحافی برادری نے احتجاج کیا۔ وہ ہاتھوں میں پلے کارڈس تھامے ہوئے تھے اورصحافت کی آزادی کیلئے نعرے لگارہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو قتل کیاجاسکتا ہے لیکن ان کی آوازکوختم نہیں کیاجا سکتا۔ مظاہرے میں شامل میں ایک خاتون صحافی کا کہناتھاکہ لنکیش ہمیشہ سچائی اورسیکولرزم کیلئے جدوجہد کرتی تھیں۔ ان کاکہناتھا کہ لنکیش کوان اشرارنے قتل کیاجو سچائی اورانصاف سے خوف زدہ ہیں۔ ان کاکہناتھاکہ ریاست میں فرقہ واریت میں اضافہ ہورہا ہے۔انھوں نے کلبرگی کے قاتلوں کواب تک گرفتارنہیں کیا اس لئے آج لنکیش کوبھی ہلاک کردیاگیا۔

دریں اثنا بی جے پی لیڈرومرکزی وزیرنتن گڈکری نے دعوی کیاہیکہ گوری لنکیش کے قتل سے بی جے پی،مودی حکومت اورکسی بھی زعفرانی تنظیم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انھوں نے اس قتل کی ذمہ داری کرناٹک حکومت پرعائد کی ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ وزیراعظم مودی چین میں ملک کے مفادات کیلئے کام کررہے ہیں ۔انھوں نے راہل گاندھی کی جانب سے کی گئی نکتہ چینی کومسترد کر دیا اوراس قتل کیلئے بی جے پی کو ذمہ دارقراردینے پرافسوس کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز