کرناٹک میں اقلیتوں کیلئے حکومت نے اسکیمیں تو اچھی اچھی بنائیں ،لیکن نفاذ میں خامیاں: سینٹر فار سوشل جسٹس

May 18, 2017 11:44 PM IST | Updated on: May 18, 2017 11:44 PM IST

گلبرگہ: معروف قومی تنظیم سینٹر فار سوشل جسٹس کا کہنا ہے کہ کرناٹک میں اقلیتوں کے لئے ریاستی حکومت نے اسکیمیں تو اچھی اچھی بنائی ہیں ، لیکن اس کے نفاذ میں خامیاں پائی جا رہی ہیں۔ سینٹر فار سوشل جسٹس کی ٹیم کے ارکان نے گلبرگہ کا دورہ کر کےاقلیتوں سے متعلقہ سرکاری دفاتر کا معائنہ کیا ۔ ٹیم کے ذمہ داران کے مطابق دورے کی پوری رپورٹ تیار کرکےرضا کارانہ طورپر نیتی آیوگ اور اقوام متحدہ کو بھیجی جائیں گی۔

سینٹر فار سوشل جسٹس کی ٹیم نے گلبرگہ میں محکمہ اقلیتی بہبود ، اوقاف اور تعلیمات عامہ کے افسران کےعلاوہ مذہبی رہنمائوں، این جی اوز اور حقوق نسواں کے لیے کام کر رہی خواتین سے بھی ملاقات کی ۔ تنظیم کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ ان کے اس دورے کا مقصد حکومتوں کی اقلیتی اسکیموں کے نفاذ کے تعلق سے اعداد و شمار جمع کرنا ہے۔

کرناٹک میں اقلیتوں کیلئے حکومت نے اسکیمیں تو اچھی اچھی بنائیں ،لیکن نفاذ میں خامیاں: سینٹر فار سوشل جسٹس

ٹیم کا کہنا تھا کہ حکومت کی کئی ایک اسکیمیں صرف کاغذ پر ہی نافذ ہیں۔ مدرسہ ماڈرنزیشن اسکیم کے نفاذ میں سرکاری عہدیدار تساہلی سے کام کر رہے ہیں۔ اسکالر شپ سے اقلیتی طلبہ محروم ہیں ۔ سال گزر جانے کے باوجود بھی پری میٹرک اسکالر شپ سے طلبہ محروم ہیں ۔ محکمہ اوقاف میں عملہ کی کمی کہ وجہ سے کئی کام ادھورے ہیں ۔ ٹیم کے مطابق سرکاری دفاتر کے دوروں کے دوران انھیں کئی ایک تلخ تجربات کا سامنا کر نا پڑا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز