ایم ایل اے قمر الاسلام کے انتقال کے بعد نئی مسلم قیادت کو لیکر بے چینی

Oct 07, 2017 06:01 PM IST | Updated on: Oct 07, 2017 06:01 PM IST

 گلبرگہ۔ گلبرگہ  کی سیاسی صورتحال پر دانشور طبقے میں کافی تشویش دیکھی جا رہی  ہے۔ کانگریس کے علاوہ  دوسری جماعتوں سے بھی مسلم امیدواروں کے میدان میں اترنے کے امکانات ہیں ۔ دانشور طبقے کا کہنا ہے کہ اگراس باراقلیتیں تھوڑی بھی غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہیں توگلبرگہ شمال کی سیٹ ہاتھ سے جا سکتی ہے۔ قمر الاسلام نے1978 میں گلبرگہ کی قیادت سنبھالی تھی ۔ گزشتہ چالیس برسوں سے وہ ان چیلنجڈ لیڈر رہے۔ جس کی وجہ سے انکی رحلت کے بعد سے  گلبرگہ میں قیادت کا خلا پیدا ہوگیا ہے۔

کانگریس کے سٹنگ ایم ایل اے قمر الاسلام کی رحلت کے بعد سے گلبرگہ کے مسلمانوں میں کافی بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ خود کانگریس میں قمر الاسلام کا جانشین بننے کیلئے سرد جنگ جاری ہے۔ ایسےمیں آئندہ اسمبلی انتخابات میں مسلم نمائندگی کے تعلق سے مقامی مسلمان کافی فکرمند ہیں ۔ کانگریس کے علاوہ دیگرجماعتوں سے بھی مسلم امیدواروں کے اعلان  اور بی جے پی کے عزائم سے دانشور طبقے میں بھی تشویش دیکھی جا رہی ہے۔

ایم ایل اے قمر الاسلام کے انتقال کے بعد نئی مسلم قیادت کو لیکر بے چینی

دانشورطبقے کا کہنا ہے کہ اتحاد کے نام پرمسلم امیدواروں سے دستبرداری کی توقع رکھنا دانشمندی کی بات نہیں ہے۔ دانشور طبقے کا ماننا ہے کہ امیدواروں کو سمجھانے کے بجائے ووٹروں  میں شعور بیدار کرکے مثبت نتیجہ بر آمد کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز