چہار جانب سے تنقیدوں کے بعد ریلوے لائن کے افتتاح میں وزیر اعلی اور سابق وزیر ریلوے مدعو

Oct 28, 2017 07:55 PM IST | Updated on: Oct 28, 2017 07:55 PM IST

گلبرگہ۔ چہار جانب سے تنقیدوں کے بعد بالاخر کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدرامیا اور گلبرگہ ایم پی ملیکارجن کھرگے کو بیدر گلبرگہ ریلوے لائن کے افتتاحی پروگرام میں  رسمی طور پرمدعو کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کل اتوار کو بیدر میں ایک سرکاری تقریب میں110 کلو میٹر ریلوے لائن کو قوم کے نام معنون کرنے والے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے سے کانگریس اور بی جے پی میں بیدر گلبرگہ ریلوے لائن کے افتتاحی پروگرام کے تعلق سے سرد جنگ جاری ہے۔  ریلوے لائن کی افتتاحی پروگرام میں وزیراعظم کی آمد کی  خبر کے ساتھ ہی تقریب ہائی پروفائل میں تبدیل ہو گئی ۔

تقریب میں سابق وزیر ریل اور پڑوسی ضلع گلبرگہ کے موجودہ رکن پارلیمنٹ و لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملیکارجن کھرگے کو دعوت نہ دیئے جانے پر کانگریس اور بی جے پی  میں لفظی تکرار جا ری ہے۔ تنازعے بڑھتا دیکھ کر محکہ ریلوے نے کھرگے اور سدرامیا کو رسمی طور پر مدعو کیا  ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ صرف دعوت نامے میں نام لکھنے سے ذمہ داری پوری نہیں ہوتی۔ وزیراعلیٰ کو پروٹوکول کی مناسبت سے دعوت دی جانی چاہئے تھی۔ لمحہ آخر میں صرف دعوت نامے میں نام چھاپنے سے مرکزی حکومت بری الذمہ نہیں ہو جاتی۔ اس ضمن میں گلبرگہ میں کانگریس  لیڈروں نے روڈ روک کر احتجاج کیا۔

چہار جانب سے تنقیدوں کے بعد ریلوے لائن کے افتتاح میں وزیر اعلی اور سابق وزیر ریلوے مدعو

سابق وزیر ریل اور گلبرگہ کے ایم پی کھرگے کو سرکاری تقریب میں مدعو نہ کئے جانے کے پیچھے سیاست بتائی جا رہی  ہے۔   کانگریسیوں نے کہا کہ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ وزیراعظم سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ کل کے پروگرام کو ملتوی کریں اور ڈویژن ہیڈ کوارٹر ہونے کی وجہ سے گلبرگہ میں اس پروجیکٹ کا افتتاحی تقریب منعقد کریں ۔ دوسری جانب بیدر گلبرگہ ریلوے لائن کے شروع ہونے سے علاقے حیدرآباد کرناٹک  کے عوام کو کافی سہولت ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔  افتتاحی پروگرام کے ساتھ ہی  بیدر سے گلبرگہ اور گلبرگہ سے بیدر کے لئے دن میں دو دو مرتبہ  پیسنجر ٹرین چلائی جائیں گی۔ 1996 میں اس وقت کے گلبرگہ ایم پی قمرالاسلام نے اس پروجیکٹ کو منظوری دلائی تھی۔ اب1542 کروڑ روپیوں کی لاگت سے یہ پروجیکٹ مکمل ہوا ہے۔ بیدر گلبرگہ کے درمیان ریلوے لائن  سے جنوبی ہند والوں کو شمالی ہند کا سفر آسان ہوگا۔ جانکاروں کے مطابق اس ریلوے لائن سے کم از کم 400 کلو میٹر کا فاصلہ کم ہوگا۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز