گلبرگہ : عدالتی احکامات کے باوجود اردو کو سرکاری سطح پر نافذ نہیں کئے جانے پر کرناٹک ہائی کورٹ میں عرضی

Mar 08, 2018 11:55 PM IST | Updated on: Mar 08, 2018 11:55 PM IST

گلبرگہ : عدالتی احکامات کے باوجود ضلع گلبرگہ میں اردو کو سرکاری سطح پر نافذ نہ کئے جانے کے خلاف کرناٹک ہائی کورٹ کی گلبرگہ بینچ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے، جس پر گلبرگہ ڈپٹی کمشنر اور ریجنل کمشنر کے علاوہ پرنسپل سکریٹری ٹو ڈی پی اے آر کرناٹک کو نوٹس جاری کرکے وضاحت طلب کی گئی ہے۔

حکومت کرناٹک کے 1966 کے جی او کے مطابق جن مقامات پر 15 فیصد زبانی اقلیتی بستی ہے۔ تمام سرکاری احکامات سرکاری زبان کنڑا کے ساتھ ساتھ ان کی زبان میں بھی جاری ہونا چاہئے۔ اسی جی او کی بنیاد پر حیدرآباد کرناٹک مسلم فورم نے کرناٹک ہائی کورٹ کی گلبرگہ بینچ میں ضلع گلبرگہ میں اردو کو سرکاری سطح پر نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے میں مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں کامیابی بھی ملی تھی۔

گلبرگہ : عدالتی احکامات کے باوجود اردو کو سرکاری سطح پر نافذ نہیں کئے جانے پر کرناٹک ہائی کورٹ میں عرضی

اس وقت کے گلبرگہ ڈپٹی کمشنر اجول کامر گھوش نے عدالت میں بہ نفس نفیس حاضر ہو کر حلف نانہ داخل کیا تھا، جس میں اپنی استطاعت کے مطابق مرحلہ وار نافذ کرنے کی عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی۔ حیدرآباد کرناٹک مسلم فورم کے وکیل کے مطابق جاری کی گئی قانونی نوٹسوں کا اگر سرکاری حکام نے قانونی دائرے میں جواب نہیں دیا تو توہین عدالت کا بھی مقدمہ دائر کیا جائیگا۔

قابل ذکر ہے کہ کرناٹک ہائیکورٹ کی گلبرگہ بینچ کی جانب سے اردو کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد کرناٹک اقلیتی کمیشن نے بھی تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ایک مکتوب روانہ کیا تھا۔ ان اضلاع کی اقلیتی زبانوں کو سرکاری سطح پر نافذ کرنے کی ہدایت دی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز