میں اب بھی آزاد نہیں ، مجھے اس شخص سے ملاقات کی آزادی چاہئے ، جس نے مجھ سے پیار کیا ہے : ہادیہ

کیرالہ کی نو مسلم لڑکی ہادیہ کو پیر کے روز سپریم کورٹ نے کالج جا کر اپنی تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دی ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی آزاد نہیں ہیں۔

Nov 29, 2017 01:19 PM IST | Updated on: Nov 29, 2017 06:36 PM IST

چنئی۔ کیرالہ کی نو مسلم لڑکی ہادیہ کو پیر کے روز سپریم کورٹ نے کالج جا کر اپنی تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دی ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی آزاد نہیں ہیں۔ ہادیہ کہتی ہیں، میں نے جو مانگا تھا وہ مجھے نہیں ملا۔ میں کورٹ آرڈر کا انتظار کر رہی ہوں، تاکہ پتہ چل سکے کہ یہ میرے لئے ایک نئی جیل تو نہیں ہوگی۔ میں اس شخص سے ملنے کی آزادی چاہتی ہوں جس نے مجھ سے پیار کیا۔

بتا دیں کہ سپریم کورٹ نے پیر کو اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے ہادیہ کو اس کے والدین کی نگرانی سے آزاد کرتے ہوئے اسے کالج جا کر تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی تھی۔ سپریم کورٹ نے تمل ناڈو کے سلیم میں واقع شیوراج ہوميوپیتھک میڈیکل کالج کے ڈین کو ہادیہ کا سرپرست مقرر کیا ہے اور انہیں کسی بھی طرح کے مسائل کے لئے عدالت کا رخ کرنے کی اجازت دی ہے۔

میں اب بھی آزاد نہیں ، مجھے اس شخص سے ملاقات کی آزادی چاہئے ، جس نے مجھ سے پیار کیا ہے : ہادیہ

کیرالہ کی نو مسلم لڑکی ہادیہ: فائل فوٹو۔

Loading...

کورٹ نے کالج انتظامیہ کو ہادیہ کے ساتھ دوسرے طالب علموں جیسا ہی برتاؤ کرنے کو کہا ہے، لیکن اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ کیا ہادیہ کے شوہر شافعین جہاں یا اس کے والدین کالج جاکر اس سے مل سکتے ہیں یا نہیں۔ منگل کی شام سلیم پہنچیں ہادیہ نے کہا کہ اسے اپنے شوہر شافعین جہاں سے ملنے کی خواہش ہے۔ کالج میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں ہادیہ نے کہا، 'میں نے کالج انتظامیہ سے اپنے شوہر سے ملنے کی اجازت مانگی ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ اجازت دے گی۔ '

حالانکہ، کالج کے پرنسپل جے كننن ہادیہ کو ایسی اجازت دینے سے صاف انکار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، 'میں ہادیہ کے شوہر کو اس سے ملنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اس کے والد نے اس کا یہاں داخلہ کرایا ہے۔ صرف وہ ہی اس سے یہاں مل سکتے ہیں۔ 'انہوں نے کہا کہ ہادیہ دیگر طالب علموں کی طرح ہاسٹل جایا کرے گی۔ وہ کہتے ہیں، 'وہ کہیں بھی اکیلی نہیں جا سکتی اور مجھ سے پیشگی اجازت لئے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتی۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز