"سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہادیہ نے کہا:"اب میں آزاد ہوں ،میں نے اسلام قبول کیا اس لئے یہ سب ہوا"

کیرالہ لو جہاد معاملے میں سپریم کورٹ سے راحت ملنے کے بعد ہادیہ نے کہا کہ وہ اب آزاد ہو کر خوش ہیں۔ہادیہ نے کہا کہ اسے یہ خوشی اسی لئے ملی کیونکہ اس نے اسلام مذہب قبول کیا ہے۔

Mar 10, 2018 10:21 PM IST | Updated on: Mar 10, 2018 11:51 PM IST

کیرالہ۔کیرالہ لو جہاد معاملے میں سپریم کورٹ سے راحت ملنے کے بعد ہادیہ نے کہا کہ وہ اب آزاد ہو کر خوش ہیں۔ہادیہ نے کہا کہ اسے یہ خوشی اسی لئے ملی کیونکہ اس نے اسلام مذہب قبول کیا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہادیہ پہلی مرتبہ کیرالہ پہنچی ہیں۔8مارچ کے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے ہادیہ اور شفین جہاں کی شادی کو صحیح قرار دیا تھا۔اس شادی کو کیرالہ ہائی  کورٹ نے لو جہاد کا معاملہ مان کر رد کر دیا تھا۔

ہادیہ نے کوجھی کوڑ میں اپنے شوہر شفین جہاں کے ساتھ پاپلر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) سے ملاقات کی۔یہاں رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے ہادیہ نے کہا کہ انہوںنے مذہب بدل کر شادی کی اس لئے ان کی شادی چرچہ کی وجہ بن گئی۔ہادیہ نے سوال کیا کہ کوئی دیگر مذہب اپنانے میں غلط کیا ہے؟اس نے کہا "ہمارا آئین ہر کسی کو اپنا مذہب منتخب کرنے کی آزادی ۔دیتا ہے۔یہ ہر شہری کامولک حق ہے۔یہ سب ہوا کیونکہ میں نے اسلام قبول کیا"۔

ہادیہ نے کہا کہ اسے یہ خوشی اسی لئے ملی کیونکہ اس نے اسلام مذہب قبول کیا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہادیہ پہلی مرتبہ کیرالہ پہنچی ہیں

ہادیہ نے کہا "میں نے اسلام مذہب قبول کرنے کی خواہش کے ساتھ مدد کیلئے کئی دیگر مسلم تنظیموں سے بات کی۔صرف پی ایف آئی میرے ساتھ کھڑا ہوا اور اس نے عدالت عظمیٰ میں قانونی طور سے اس معاملے میں لڑنے میں ہماری مدد کی"۔

ہادیہ کے شوہر شفین جہاں نے کہا کہ وہ  جلد ہی اپنے رشتہ داروں سے ملنے جانے والے ہیں۔عدالت عظمیٰ نے 8 مارچ کو کیرالہ ہائی کورٹ جہاں سے ہادیہ کی شادی کو خارج کرنے کا حکم کر دیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز