شعلے برساتی گرمی میں عوام گھروں میں محصور رہنے پر مجبور ، واٹر ایمبولنس سروسز کی شروعات

Apr 27, 2017 10:52 PM IST | Updated on: Apr 27, 2017 10:52 PM IST

رائچور : ملک کے مختلف حصوں میں شعلے برساتی گرمی کولے کر ہائے ہائے کی صورتحال نظر آرہی ہے ۔ لوگ دن کے اوقات میں گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں ،جس سے مصروف ترین سڑکیں ویران ہونے کے علاوہ کاروبار پر شدید اثر پڑرہا ہے ۔ دوپہر میں بازاروں میں کرفیو جیسی صورتحال دیکھی جارہی ہے ۔ گرمی کی شدت کو دیکھ ایک مقامی تنظیم نے واٹر ایمبولنس کا آغاز کیا ہے۔ جو راہ چلتے لوگوں کو پینے کا پانی مہیا کرائے گی ۔

حیدرآباد کرناٹک کے رائچور ضلع میں تقریبا 43 ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ کیا جا رہا ہے ۔ شعلے برساتی گرمی اور لو کے باعث عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ دن کے اوقات میں شہرکی سڑکیں ویران ہوجاتی ہیں ۔اس کے علاوہ لوگوں کے گھروں سے باہرنہ نکلنے کی وجہ سے کاروبار بھی بری طرح مثاثر ہو رہا ہے ۔ وہیں دوسری طرف سرکاری حکام شدید گرمی کی وجہ سے عوام بالخصوص ضعیف افراد کو گرمی سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں اورعوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دن کے اوقات میں گھروں سے غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں ۔

شعلے برساتی گرمی میں عوام گھروں میں محصور رہنے پر مجبور ، واٹر ایمبولنس سروسز کی شروعات

موسم گرما کی وجہ سے رائچور ضلع میں مختلف مقامات پر کئی افراد کو لو لگنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں ۔ اسپتالوں میں گرمی سے متاثر ہ مریضوں کی کثیر تعداد نظر آرہی ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ساحلی آندھرا پردیش، رائل سیما، تلنگانہ اورشمالی کرناٹک کے بعض علاقوں میں آئندہ چند دنوں تک موسم خشک رہے گا ۔ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے 2 سے 4 ڈگری سلسیس زیادہ رہنے کا امکان ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز