کرناٹک کے ساحلی علاقوں میں حالات کشیدہ بنا کر ہندو۔ مسلم اتحاد کو توڑنے کی کوشش

Jul 19, 2017 06:50 PM IST | Updated on: Jul 19, 2017 06:50 PM IST

بنگلورو۔ ریاست کرناٹک میں اسمبلی انتخابات قریب آ رہے ہیں۔ دانشوروں کا کہنا ہے کہ انتخابی فائدہ کیلئے چند طاقتیں ماحول کوبگاڑنے، لوگوں کومشتعل کرنے، نوجوانوں کو فساد کیلئے اُکسانے کی کوششں کررہی ہیں۔ لہذا ایسی طاقتوں کے خلاف ہندوؤں اور مسلمانوں کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پیجاورمٹھ کےسوامی جی کا رمضان میں مٹھ میں افطار کا اہتمام فرقہ پرستوں کیلئے گلے کی ہڈی ثابت ہوا ہے اس لئے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش ہو رہی ہے- کرناٹک کے ساحلی علاقوں میں  ہندو مسلم اتحاد کو توڑنےکی کوششں ہو رہی ہے ـ پیارومحبت، امن وامان کوعام کرنے کی کوششوں کوکچھ شر پسند ناکام بنانے میں لگے ہیں ۔

ماہ رمضان کےدوران کرناٹک کےساحلی شہراُڈپی میں ایک خوش آئند کوشش دیکھنے کوملی جب ملک بھر میں مشہور اُڈپی کے پیجاورمٹھ کے ویشویشتیرتھ سوامی جی نےمسلمانوں کیلئے افطارکا اہتمام کیا ۔ افطارکے بعد مٹھ میں ہی نمازادا کی گئی۔  ویسے تو پیجاورمٹھ کےسوامی جی کوسنگھ پریوارکی تنظیموں کا حامی، ہندوتوواد کی نمائندہ شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ لیکن جب سوامی جی نے پہلی مرتبہ اپنے ہی مٹھ میں افطار اہتمام کروایا توایک مثبت پیغام عام ہوا ۔ تاہم عید کے چند دنوں بعد پیدا ہوئے حالات سے اتحاد کی کوششوں کو کافی ٹھیس پہونچی ہے۔ دونوں طبقے کے نوجوانوں کے قتل کے بعد بنٹوال اور چند دیگرعلاقوں میں حالات اب بھی کشیدہ ہیں تودوسری طرف سیاسی پارٹیاں اپنی روٹیاں سینک رہی ہیں۔ ادھر کرناٹک ریاستی اقلیتی کمیشن کےصدر نصیراحمد نے کہا  ہے کہ وہ ساحلی علاقوں پر نظررکھے ہوئےہیں ۔ جلد ہی کمیشن کاوفد کشیدہ علاقوں کا دورہ کریگا۔

کرناٹک کے ساحلی علاقوں میں حالات کشیدہ بنا کر ہندو۔ مسلم  اتحاد کو توڑنے کی کوشش

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز