کرناٹک : بی جے پی نے حکومت تو بنالی ، مگر بچانے کیلئے بیلنے پڑ سکتے ہیں کئی پاپڑ ، جانیں کیا کیا ہیں امکانات

May 17, 2018 10:16 PM IST | Updated on: May 17, 2018 10:16 PM IST

بنگلورو : کرناٹک میں بی جے پی نے حکومت نے بنالی ہے۔ لیکن اسے اپنی حکومت بچانے کیلئے کئی پاپڑ بیلنے پڑ سکتے ہیں۔ دوسری جانب کانگریس اور جے ڈی ایس بھی حکومت سازی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ دونوں فریق کیلئے کیا کیا امکانات ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ کرناٹک میں معلق اسمبلی ہے اور کسی کو بھی واضح اکثریت نہیں ملی ہے۔ بی جے پی کے کھاتہ میں 104 سیٹیں گئی ہیں اور وہ ریاست میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ہے تاہم میجک فیگر سے 8 کم ہے ۔ کانگریس کے کھاتہ میں 78 سیٹیں گئی ہیں جبکہ 38 سیٹوں پر جے ڈی ایس کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

کرناٹک : بی جے پی نے حکومت تو بنالی ، مگر بچانے کیلئے بیلنے پڑ سکتے ہیں کئی پاپڑ ، جانیں کیا کیا ہیں امکانات

وزیر اعلی کے عہدہ کا حلف لیتے ہوئے یدی یورپا

امکان نمبر ون

بی جے پی نے حکومت تو بنالی ہے۔ اب سے اکثریت ثابت کرنی ہے۔ اگر سے بی جے پی، اپوزیشن جماعتوں کانگریس اور جے ڈی ایس کے 16 ایم ایل ایز کو مستعفی کراتی ہے یا پھر ووٹ آف کانفیڈنس کے دوران غیر حاضر ہونے کی ہدایت دیتی ہے ، تو ایم ایل ایز کی تعداد ہو جاتی ہے دو سو چھ۔ بی جے پی کے پاس ہے ایک سو چار، اس طرح سے بی جے پی حکومت بنانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ دوسیٹوں پر انتخابات پہلے سے ہونے ہیں۔ مستعفی ہوئے سولہ سیٹوں پر بی جے پی ضمنی انتخابات کرا سکتی ہے۔ 18 سیٹوں میں بی جے پی 12 جیت لیتی ہے تو اسکے ارکان کی تعداد ایک سو سولہ ہوجائیگی۔ سکون سے پانچ سال حکومت کی جا سکتی ہے۔

امکان نمبر ٹو

اگر کانگریس -جے ڈی ایس کی حکومت بنتی ہے ، تو بھی بی جے پی اس حکومت کو غیر مستحکم کر سکتی ہے۔ دونوں جماعتوں کی کل تعداد ایک سو اٹھارہ ہے۔ اگر بی جے پی "آپریشن کنول "کے ذریعہ کانگریس اور جے ڈی ایس کے آٹھ ارکان کو ووٹ آف کانفیڈنس کے دوران غیر حاضر ہونے میں کامیاب ہو تی ہے ، تو یہ تعداد ایک سو 10 ہو جائیگی، یعنی دو سو بارہ سے دو کم۔ اکثریت ثابت نہ ہونے کی صورت میں گورنر مرکز سے کرناٹک میں صدرراج کی سفارش کر سکتے ہیں۔ اس طرح سے 2019 کے لوک سبھا انتخابات اور کرناٹک اسمبلی انتخابات ایک ساتھ کراکر بی جے پی مودی لہر کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

امکان نمبر تین۔

اس کے علاوہ بھی اگر کانگریس اور جے ڈی ایس اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب بھی ہو گئے ، تو بی جے پی مخلوط حکومت کی رسہ کشی کو موضوع بنا کر 2019 لوک سبھا انتخابات میں فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

جواد میر کی رپورٹ

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز