بیوی کے ساتھ سیکس کے دوران پارن فلم چلاکر لیپ ٹاپ کا ویب کیمرا آن رکھتا تھا شوہر

Jun 07, 2018 09:49 PM IST | Updated on: Jun 07, 2018 09:49 PM IST

روی اور ریما کی شادی کو کچھ عرصہ ہو چکا تھا اور دونوں ہی حیدر آباد میں سافٹ ویئر انجینئر کے طور پر کام کر رہے تھے۔روی کی کچھ عادتیں اور حرکتیں اتنی عجیب تھیں کہ ریما کو اکثر عجیب قسم کا شک ہوتا تھا۔روی سوالوں کے جواب بھی ٹھیک سے نہیں دے پاتا تھا تو ریما کو دال میں کچھ کالا لگتا تھا لیکن جب سچ سامنے آیا تو ریما کو بھی یقین نہیں ہوا۔بات ہے دو سال پہلے یونی 2016 کی ۔روی اور ریما اپنی جاب یعنی کام میں مصروف تھےاور خوش بھی۔اچھا کما رہے تھے دونوں اور ایک اچھی زندگی لیڈ کر رہے تھے۔ان سب کے درمیان کچھ باتیں تھیں جو دونوں کے درمیان عام نہیں تھیں ۔شوہر ۔بہوی ہونے اور شادی کو کافی وقت بھی نہ ہونے کے باوجود دونوں کے درمیان جسمانی تعلاقات بنانے کا فاصلہ زیادہ رہتا تھا۔اکثر روی ٹال دیا کرتا تھا۔

دوسری عجیب بات یہ تھی کہ سیکس کو لیکر روی کی کچھ فینٹیسیز تھیں ۔وہ جب بھی ریما کے ساتھ ہمبستر ہوتا تھا تو لیپ ٹاپ پر کوئی پارن فلم چلاکر رکھتا تھا۔ریما منع بھی کرتی اور پوچھتی بھی تو وہ اسے اپنی فینٹیسی بتا کر بات کو گھما دیتا تھا۔ایک اور عجیب بات یہ تھی کہ اکثر روی اکیے میں لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا ہوتا اور اچانک وہاں ریما پہنچتی تو وہ لیپ ٹاپ فورا بند کر دیتا تھا۔

بیوی کے ساتھ سیکس کے دوران  پارن فلم چلاکر لیپ ٹاپ کا ویب کیمرا آن رکھتا تھا شوہر

علامتی تصویر

Loading...

ایسی تمام عادتوں اور حرکتوں کو لیکر دونوں کے درمیان کئی مرتبہ جھگڑا اور بحث ہو چکی تھی۔بہر حال روز مرہ کے کاموںکے درمیان ریما بھی ان باتوں کو لیکر بہت سیرئس نہیں رہا کرتی تھی۔ایک دن روی باتھروم میں تھا تبھی اس کے موبائل فون پر ایک میسیج بلنک ہوا۔اتفاق سے ریما کی نظر اس پر پڑی روی جب آیا تو ریما نے پوچھا کی ایک بڑی رقم اس کے اکاؤنٹ میں کسی کمپنی کریڈٹ کیوں یوئی ہے تو روی نے پتہ کرنے کی بات کہی اور شام کو کوئی وجہ بتا دی۔

porn1.jpg LEPTOP

یہ رقم روی کے اکاؤنٹ میں اس کمپنی سے نہیں آئی تھی جہاں وہ کام کرتا تھا ایسے ہی دن گزر رہے تھے اور اس سال نومبر میں ریما کے ایک دوست نے ریما سے ملاقات کی ۔اس دوس تنت ریما سے کہا کہ اس کے پاس ایک خبر سوال کے طور پر ہے۔ریما کے پوچھنے پو اس نے بتایا کی اس نے ریما کو پورن ویڈیوز میں دیکھا ہے۔یہ سنتے ہی ریما سن رہ گئی ۔ریما نے اس سے ڈٹیلس لئے ۔ریما نے وہ ویڈیوز چیک کیئے تو واقعی ویڈیوز میں وہی تھی۔

ریما نے اس بارے میں رویکو بتانا ٹھیک نہیں سمجھا کیونکہ معاملہ ایسا تھا کہ اسے خود سمجھ نہیں آ رہا تھا تو وہ روی کو کیا سمجھاتی۔اپنے دوست کی مدد سے ریما سائبر کرائم کنٹرول برانچ پہنچی اور پولیس میں شکایت درج کروائی۔اب جانچ شروع ہوئی تو ریما کسی پر شک ظاہر نہیں کر پائی۔ریما کا کہنا تھا کہ اس کے شوہر کے علاوہ اس نے کسی اور کے ساتھ سیکس ہی نہیں کیا ہے۔گھر سے باہر صرف ہنیمون یا ایک دو مرتبہ ہی کسی ہوٹل میں یسا کچھ ہوا ہے۔

جانچ چل رہی تھی کہ کلو نہیں مل رہا تھا۔حالانکہ جس پارن ویب سائٹ پر لوڈ ہوا تھا ویڈیو ،اپلوڈنگ تھریسور سےہوئی تھی اور اس سلسلے میں ایک شخص تک پولیس پہنچ رہی تھی۔اسی درمیان ایک افسر نے جب ویڈیوز کو ایک بار غور سے دیکھا تو کلو ملا ۔کلو یہ تھا کہ ان ویڈیوز میں صرف ریما کا چہرہ نظر آرہا تھا ،آدمی کا نہیں۔پولیس نے اپنی جانچ کی تحقیقات توجہ مرکوز کی۔جب تفتیش کیگئی تو روی کے اکاؤنٹ میں جہاں ۔جہاں سے رقم کریڈٹ ہوتی تھی ان ذرائع کا پتہ لگایا گیا۔

ان میں سے ایک سورس تھا میل ایسکارٹ سروس۔روی سے جب سختی سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے قبول کر لیا کہ وہی گنہگار ہے۔روی نے بتایا کہ بچپن سے ہی اسے پارن کی لت لگ چکی تھی اور اسی وجہ سے اس دھندھے میں آ گیا تھا۔میل ایسکارٹ سروس کے ذریعے اس نے پیسے بھی کمائے تھے۔یہ ساب سن کر ریما کے پاؤں کے نیچے زمین کھسک چکی تھی۔

جانچ میں راز کھل گیا کہ حیدرآبا دکا ایک سافٹ ویئر انجینئر ایک پارن  ویبسائٹ کیلئے میل ایسکارٹ کے طور پر کام کرتا تھا۔وہ اپنی بیوی کے ساتھ سیکس کرنے کے دوران لیپ ٹاپ پر کوئی فلم چلاکر رکھتا تھا اور ویب کیمرے کے ذریعے ان لمحون کو لائیو اسٹریم کرتا تھا۔اس معاملے میں متاثرہ اور ملزم کے اصلی نا م کا انکشاف نہیں کیا گیا ہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز