کمسن مسلم لڑکیوں کی عرب شیوخ سے شادی معاملہ میں حیدرآباد ہائی کورٹ کی سختی

Oct 13, 2017 07:34 PM IST | Updated on: Oct 13, 2017 07:34 PM IST

حیدرآباد۔ حیدرآباد ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت، تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی ریاستی حکومتوں سے پوچھا ہے کہ کمسن مسلم لڑکیوں کی عرب شیوخ سے شادی کے نام پر ان کے استحصال اور خا طی قاضیوں کے خلاف کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں جسٹس ایس وی بھٹ نے تینوں حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 30 اکتوبر تک جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔  وہیں حیدرآباد ہائی کورٹ  نے 2006 میں اسی عدالت کی جانب سے قاضی ایکٹ میں ترمیم کی ہدایت پرعمل نہ کرنے پرناراضگی کا اظہار کیا ۔ حیدرآباد ہائی کورٹ آندھرا پردیش کے ضلع پرکا شم کے عرضی گزار شیخ چاند پاشاہ کی طرف سے قاضیوں سے متعلق داخل کردہ درخوست پر سماعت کررہی تھی ۔

ادھرسکریٹری محکمۂ اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ سید عمرجلیل نے جانکاری دی کہ  عمررسیدہ عرب شیوخ کی کمسن  لڑکیوں کے ساتھ غیر قانونی طریقوں سے شادیوں کے لگاتار واقعات کے پیش نظرحکومت تلنگانہ نےاس قسم کی شادیوں کو روکنے کے لئے قانون سازی کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود نے آرڈیننس کا مسودہ تیار کرلیا ہے۔ غیرملکی افراد  کے ساتھ مسلم لڑکیوں کی شادی پر روک کے لئے آرڈیننس کے مسودہ میں یہ درج کیا گیا ہے کے کہ شادی کے خواہشمند غیرملکیوں کو اپنے ملک سے نوآبجیکشن سرٹیفکیٹ کے ساتھ ہی ساتھ جس لڑکی سےشادی ہونے والی ہے اس کے ساتھ عمر کا فرق دس سال سے زیادہ نہ ہو، کو یقینی بنانا ہو گا۔

کمسن مسلم لڑکیوں کی عرب شیوخ سے شادی معاملہ میں حیدرآباد ہائی کورٹ کی سختی

سکریٹری محکمۂ اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ سید عمرجلیل

اس آرڈیننس کےقانون بننےکی صورت میں ٹورسٹ ویزا یا ویزٹ ویزا پر ہندوستان آکر شادی کرنے والےغیرملکیوں کو خلاف ورزی کرنے پر سات سال تک کی سزا ہو سکتی ہے اور اسی طرح غیر قانونی طریقے سے غیرملکیوں کو شادی میں مدد کرنے والے مقامی ایجنٹس یا افراد اور نکاح پڑھانے والے قاضیوں کو بھی سزا  دی جا سکتی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز