حیدرآباد : بیرونی ممالک کے باشندوں سے کم عمر کی لڑکیوں کی شادی اور قاضیوں کی من مانی پرقدغن کی کارروائی شروع

Sep 04, 2017 02:49 PM IST | Updated on: Sep 04, 2017 02:50 PM IST

حیدرآباد: شہر حیدرآباد میں بیرونی ممالک کے باشندوں کے ساتھ کم عمر کی لڑکیوں کی شادیوں پر قابو پانے اور قاضیوں کی من مانی پر روک لگانے کے لئے تلنگانہ کا محکمہ اقلیتی بہبود نئے قواعد تیارکررہا ہے۔ ذرائع کے مطابق دولہا دلہن کی عمر میں دس سال کا فرق ہونے پر کمشنر پولیس کی منظوری کو لازمی کردیاجائے گا۔ محکمہ کے ذمہ داروں نے بتایاہے کہ اس سلسلے میں قواعد تیارکئے گئے ہیں لیکن اس میں ترمیم اور ردوبدل کیلئے تبادلہ خیال کیاجارہاہے۔

اعلی افسروں کا کہناہے کہ بہت جلد مشائخ اورعلماء کے ساتھ اجلاس طلب کیاجائے گا اور 12ستمبر کو اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی کے اجلاس میں مسودہ پر تبادلہ خیال کیاجائے گا اس کے بعدہی اس کو حتمی شکل دی جائے گی۔

حیدرآباد : بیرونی ممالک کے باشندوں سے کم عمر کی لڑکیوں کی شادی اور قاضیوں کی من مانی پرقدغن کی کارروائی شروع

علامتی تصویر

واضح رہے کہ1880کے قاضی ایکٹ کی وجہ سے بیرونی ممالک کے باشندوں سے کم عمر کی لڑکیوں کی شادی کے رجحان کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیاگیا۔ شہر حیدرآبادمیں حالیہ چند دنوں میں معمر عرب باشندوں کے ساتھ کم عمرلڑکیوں کی کنٹریکٹ کی شادیوں کے بڑھتے رجحان کو دیکھتے ہوئے محکمہ کی جانب سے یہ قدم اٹھایا جارہا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز