شریعت محمدی اور قبلہ اول کے تحفظ کے لئے مسلمان ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار: مقررین

مسلمانوں کی مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کے اعلان کو انصاف کے تقاضوں کے خلاف اور بین الاقوامی فیصلوں کی دھجیاں اڑادینے کے مترادف قرار دیتے ہوئے عالم اسلام سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل سے تجارتی و معاشی اور سفارتی تعلقات کو منقطع کرلے۔

Dec 16, 2017 10:25 AM IST | Updated on: Dec 16, 2017 10:25 AM IST

حیدرآباد۔ مسلمانوں کی مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کے اعلان کو انصاف کے تقاضوں کے خلاف اور بین الاقوامی فیصلوں کی دھجیاں اڑادینے کے مترادف قرار دیتے ہوئے عالم اسلام سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل سے تجارتی و معاشی اور سفارتی تعلقات کو منقطع کرلے۔ حیدرآباد میں مجلس کے ہیڈ کوارٹرس دارالسلام میں مشترکہ مجلس عمل برائے تلنگانہ و آندھرا کے زیر اہتمام منعقدہ احتجاجی جلسہ عام برائے بازیابی بیت المقدس و تحفظ مسجد اقصیٰ میں مسلم رہنماوں،اکابرین اور مشائخ عظام نے متحدہ طور پر اس عزم کا اظہار کیا کہ شریعت محمدی اور قبلہ اول کے تحفظ کے لئے ہر قسم کی قربانی دی جائے گی۔ اس جلسہ عام میں جو صدر مجلس اتحادالمسلمین بیرسٹر اسدالدین اویسی رکن پارلیمان کی زیر صدارت منعقد ہوا‘ قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ اسرائیل ایک غاصب اور نسل پرست حکومت ہے اور مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کرنے کا اس کا منصوبہ جارحیت کی انتہا ہے لہٰذا اسے بلاتاخیر نہ صرف ایسے ناپاک منصوبہ سے باز آنا چاہئے بلکہ 1967ء کی سرحد پر واپس ہوجانا چاہئے۔

عالمی طاقتوں‘ یوروپی یونین اور سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی ذمہ داری ہے کہ اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ کو ختم کرنے اور 1967ء کی سرحد پر واپس ہونے کا جو فیصلہ ایک سے زائد بار سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ نے کیا ہے اس کو نافذ کرے اور عالم اسلام میں سلامتی کونسل کے فیصلوں کوک نافذ کرنے کے لئے جس چابکدستی کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے وہی طریقہ اسرائیل کے خلاف بھی اختیار کرے۔عرب ممالک بالخصوص وہ ممالک جن کی امریکہ سے دوستی ہے جیسے سعودی عرب‘ مصر‘ اردن‘ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور امریکہ پر دباؤ ڈالنے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ فلسطینی مزاحمت کاروں کو دہشت گرد قرار دینے کے بجائے اسرائیل کی دہشت گرد قراردیں اور بیت المقدس کی حفاظت کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہوجائیں۔تمام عالم اسلام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اسرائیل سے تجارتی و معاشی تعلقات‘ علانیہ یا خفیہ سفارتی تعلقات منقطع کرلے۔

شریعت محمدی اور قبلہ اول کے تحفظ کے لئے مسلمان ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار: مقررین

مسجد اقصی: فائل فوٹو

حکومت ہند سے اپیل کی گئی کہ وہ امریکہ کے اس نامنصفانہ اعلان کی بھرپور مخالفت کرے اور اس پر دباؤ ڈالے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مغائر اپنے منصوبہ کو تر ک کردے۔ملت اسلامیہ ہند سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ امریکہ کے اس فیصلہ کے خلاف جمہوری طریقہ پر اپنی ناراضگی کا اظہار کریں اور پر امن طریقہ پر برادران وطن کو اسرائیل کی ظلم و زیادتی سے آگاہ کریں امریکہ‘ اسرائیل‘ یوروپی‘ یونین‘ برطانیہ‘ روس کے سفارت خانوں کو نیز حکومت ہند کو ای میل کے ذریعہ احتجاجی نوٹ بھیجیں۔ عرب ملکوں خاص کر سعودی عرب، مصر اور اردن کے سفارتخانوں کو بھی اپنے جذبات سے واقف کروائیں۔ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لئے خوب خوب دعاؤں کا اہتمام کریں۔

مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے کہا کہ برائی کو روکنا، برائی کو برا بولنا، برائی کو برا سمجھنا ایمان کی علامت ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ ایمان کی کمزوری ہے۔ یزیدی لشکر کے سامنے سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے 72 رفقاء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ظالم کے خلاف زبان نہ کھولیل تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ظالم کی بجائے خاموش رہنے والے کو جہنم میں ڈالے گا۔ آپؓ یزید کے باطل لشکر کے آگے 72 رفقاء کی قربانی دے کر کحق کی سربلندی کی قیامت تک آواز بلند کی۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی ایم پی وصدر مجلس نے کہا ہے کہ بیت المقدس کی بازیابی اور مسجد اقصی کا تحفظ کوئی زمین کا جھگڑا ،فلسطین یا عربوں کا مسئلہ نہیں ہے ۔

Loading...

یہ عالم اسلام کا مسئلہ ہے ۔یہ ایمان وکفر کی جنگ ہے۔حق و باطل کی لڑائی ہے۔ اس میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ عالم اسلام اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھے ۔انہوں نے کہاکہ ہندوستانی حکومت جنوری میں اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے دورہ کو منسوخ کرے ۔جس طرح امریکہ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے ، اسی طرح ہندوستانی حکومت بھی بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرے۔صدر مجلس نے کہاکہ مسلمان اگر اپنے مزاج میں اسلامی کردار پیداکریں تو اپنے جذبہ کو زند ہ رکھ سکتے ہیں۔اس طرح بیت المقدس ہمارا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستانی حکومت اسرائیل سے ہتھیار نہ خریدے۔بیت المقدس کی عظمت، فضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے مفتی خلیل احمد نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ اس سے پہلے بھی بیت المقدس پر 90 برس تک غیروں کا قبضہ رہا۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز