کرناٹک اسمبلی انتخابات : ٹکٹ کیلئے سیاسی پارٹیوں میں زبردست لابئنگ ، اقلیتی طبقہ کی کانگریس پر نگاہیں مرکوز

کرناٹک اسمبلی انتخابات کی سرگرمیاں عروج پرہیں۔ کانگریس، بی جے پی اورجے ڈی ایس کے ٹکٹ کیلئے زبردست لابی چل رہی ہے۔

Apr 11, 2018 11:47 PM IST | Updated on: Apr 11, 2018 11:47 PM IST

بنگلورو : کرناٹک اسمبلی انتخابات کی سرگرمیاں عروج پرہیں۔ کانگریس، بی جے پی اورجے ڈی ایس کے ٹکٹ کیلئے زبردست لابی چل رہی ہے۔ کانگریس پارٹی کے مسلم لیڈر، اقلیتی طبقہ کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی دینے کی مانگ کررہے ہیں۔ تاہم ا سمبلی انتخابات میں کیا اس مرتبہ مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ ہوگا؟ کیا اہم سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو مناسب نمائندگی دیں گی۔ یہ وہ سوالات ہیں جو ان دنوں ریاست کےمسلم طبقہ میں گردش کررہےہیں۔

نئی دہلی میں سابق مرکزی وزیر کے رحمن خان کی قیادت میں کانگریس کے مسلم لیڈروں نے وزیراعلی سدرامیا،کانگریس انچارج وینوگوپال، ریاستی صدر جی پرمیشور سے ملاقات کی۔ مسلم لیڈروں کا وفد غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل سے بھی ملا۔ وفد نے اقلیتوں کیلئے26ٹکٹ دینےکا کانگریس پارٹی سےمطالبہ کیا۔ کے رحمن خانن کے مطابق ہم نے26سیٹوں کیلئے میمورنڈم دیاہے۔ پچھلی مرتبہ 19 مسلم ،2 عیسائی اور2جین کل23ٹکٹ دئے گئے تھے۔ اس بار26کی مانگ کی گئی ہے۔

کرناٹک اسمبلی انتخابات : ٹکٹ کیلئے سیاسی پارٹیوں میں زبردست لابئنگ ، اقلیتی طبقہ کی کانگریس پر نگاہیں مرکوز

سابق ایم ایل سی عبدالستار سیٹھ کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا کرناٹک میں 21مسلم ارکان، اسمبلی کیلئےمنتخب ہوئےتھے ، لیکن اب یہ تعداد گھٹ کردس سے بارہ کے درمیان رہ گئی ہے۔ عبدالستارسیٹھ کے مطابق کانگریس پارٹی مسلمانوں کے صد فیصد ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ لہذا کانگریس کوٹکٹ کے معاملے میں بھی انصاف کرناہوگا۔ جبکہ سیاسی تجزیہ نگار صدیق آلدوری نے مسلمانوں میں اتحاد پر زوردیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ بی جے پی نےاپنی پہلی فہرست میں ایک بھی مسلم امیدوار کوٹکٹ نہیں دیاہے۔ جبکہ جے ڈی ایس نے چند مسلم امیدواروں کونمائندگی ضروردی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ریاست کے زیادہ ترمسلم لیڈروں کا تعلق کانگریس پارٹی سے ہے۔ لہذا مسلم طبقہ کی نگاہیں اب کانگریس پارٹی کی فہرست پرٹکی ہوئی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز