کرناٹک انتخابات : جوڑ توڑ کی سیاست عروج پر ، ممبران اسمبلی کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے کانگریس کا یہ ہے فارمولہ

کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد اب وہاں کے سیاسی حالات کافی دلچسپ بنتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

May 16, 2018 12:16 PM IST | Updated on: May 16, 2018 12:16 PM IST

بنگلورو : کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد اب وہاں کے سیاسی حالات کافی دلچسپ بنتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔سبھی پارٹیاں حکومت سازی کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اپنی اپنی حکومت بنانے کا دعوی کررہی ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ جہاں ایک طرف خرید و فرخت کے ساتھ ساتھ منتخب ممبران اسمبلیوں کو وزارت کی لالچ دے کر اپنے پالے میں کرنے کی کوششیں بھی تیز ہوگئی ہیں،وہیں دوسری طرف سیاسی پارٹیاں اپنے لیڈروں کو بھی ٹوٹنے سے بچانے میں لگ گئی ہیں ۔

کانگریس اپنے لیڈروں کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے ایک ریسورٹ میںرکھے گی ۔ کانگریس کے لیڈر ڈی کے شیو کمار کا کہنا ہے کہ ان کے ممبران اسمبلی ایک ریسورٹ میں منتقل ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم آگے کی حکمت عملی طے کرنے کیلئے ایک جلد ہی ایک میٹنگ کرنے جارہے ہیں ۔ ہم اپنے ممبران اسمبلی کو کسی ریسورٹ میں منتقل کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ بی جے پی ہمارے ممبران اسمبلی کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کررہی ہے ، ہم سب کچھ جانتے ہیں۔

کرناٹک انتخابات : جوڑ توڑ کی سیاست عروج پر ، ممبران اسمبلی کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے کانگریس کا یہ ہے فارمولہ

کانگریس لیڈر ڈی کے شیو کمار ۔ فوٹو : اے این آئی

ادھر خبروں کے مطابق کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے پارٹی کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد سے گفتگو کی ہے اور انہیں حکومت کی تشکیل کیلئے پورا زور لگانے کیلئے کہا ہے۔ پارٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر گورنر نے پہلے بی جے پی کو حکومت سازی کیلئے مدعو کیا تو وہ عدالت جائے گی۔

دریں اثنا غلام نبی آزاد کا کہنا ہے کہ بی جے پی جمہوریت میں یقین نہیں رکھتی ہے۔ بنگلورو میں پارٹی دفتر کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہا کہ بی جے پی اور اس کی مرکزی قیادت جمہوریت میں یقین نہیں رکھتی ہے، صرف وہ دوسری پارٹی کو توڑنا چاہتی ہے ۔ لیکن ہمیں اپنے سبھی ممبران اسمبلیوں پر پورا یقین ہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز