کر ناٹک انتخابات:"کسان والد"کے لئے امریکہ کی کمپنی چھوڑ کر ملک لوٹا انجینئر 

Apr 17, 2018 08:43 AM IST | Updated on: Apr 17, 2018 09:04 AM IST

گزشتہ سال فروری میں کرناٹک کے میلوکوٹے ایم ایل اے کے۔ایس پتنیا کی 68 کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے سے موت ہو گئی تھی۔ان کی موت پر سی ایم سدا رمیا نے کہا تھا کہ کسان تحریک نے اپنا بڑا لیڈر کھو دیا۔ایک ایسا لیڈر جو زمینی حقیقت کو جانتا اور سمجھتا تھا۔اب جب چناؤ میں ان کی جگہ لینے کی باری آئی تو حامیوں نے ایک ووٹ ان کے بیٹے درشن پتنیا کو منتخب کیا۔

درشن 15 سالوںمیں کرناٹک واپس سیٹل ہونے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔اب تک یو ایس کے ڈینور میں رہ رہے درشن نے وہاں اپنی ایک کمپنی بھی کھولی تھی۔وہ کہتے ہیں،"میرے سیاست میں آنے کو لیکر ہمارے درمیان کبھی چرچہ نہیں ہوئی۔اگر میری ایسی کوئی منصوبہ بندی ہوتی تو شاید دنیا کے کسی او کونے میں میں پوری طرح سیٹل نہیں ہوا ہوتا"۔

کر ناٹک انتخابات:

درشن نے امریکہ میں اپنی ایک کمپنی شروع کی تھی۔جسے چھوڑ کر اب وہ کرناٹک میں چناؤ لڑیں گے۔

کانگریس نے 218 امیدواروں کی اطلاع اتوار کو جاری ی ہے۔حالانکہ کانگریس نے 5سیٹوں پر امیدواروں کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے۔ان میں سے ایک سیٹ میلوکوٹے ہے۔ذرائع نے اس سیٹ کو لیکر ساری جانکاری دے دی ہے لیکن درشن کی سیاست میں اینٹری کی تصدیق نہیں کی ہے۔

درشن کے والد مانڈیا کے میلکوٹے سے ایم ایل اے تھےوہ کرناٹک سروودیہ پارٹی کے لیڈر تھے۔کے ایس پتنیا کے سیاسی کریئر کی شروعات کرناٹک ریاست ریٹھا سنگھ نام کی ایک کسانوں کی تنظیم سے ہوئی تھییہ تنظیم اب یوگیندر یادو کی سوراج انڈیا پارٹی میں مرج ہو گئی ہے۔

سال 2013 میں پتنیا سوراج انڈیا کے پہلے اور یکجہتی ایم ایل اے بنے۔اس چناؤ میں میلکوٹے سیٹ پر جتنے ووٹ پڑے تھے۔اس کے قریب 50 فیصد ووٹ پتنیا کو ملے تھے۔انہوں نے جے ڈی ایس کے امیدوارسی ایس پتا راجو کو 9000ووٹوں کے فرق سے ہرایا تھا۔2008 کے چناؤ میں پتا راجو نے پتنیا کو اسی سیٹ پر ہرایا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز